ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشمس (91) — آیت 10

وَ قَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىہَا ﴿ؕ۱۰﴾
اور یقینا وہ نامراد ہوگیا جس نے اسے مٹی میں دبا دیا۔ En
اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا
En
اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا وه ناکام ہوا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10){ وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا: دَسَّا دَسَّ يَدُسُّ دَسًّا} (ن) سے مبالغے کے لیے باب تفعیل ہے، معنی ہے مٹی میں دبا دینا، یہ اصل میں {دَسَّسَ} تھا، دوسرے سین کو الف کر دیا، جیسے {تَقَضَّضَ الْبَازِيْ} (باز شکار پر ٹوٹ پڑا) کو {تَقَضَّي الْبَازِيْ} کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «‏‏‏‏اَمْ يَدُسُّهٗ فِي التُّرَابِ» ‏‏‏‏ [النحل:۵۹] یا اسے مٹی میں دبا دے۔