(آیت 5){ اَيَحْسَبُاَنْلَّنْيَّقْدِرَعَلَيْهِاَحَدٌ:} جن سختیوں اور مصیبتوں میں آدمی زندگی بسر کرتا ہے ان کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنی حقیقت کو پہچانتا اور اس میں عاجزی اور انکسار کا جذبہ پیدا ہوتا، لیکن اس کی حالت یہ ہے کہ اکڑفوں دکھاتا ہے اور سمجھتا ہے مجھ پر کون قابو پا سکتا ہے؟ (اشرف الحواشی)
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔