اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے، اور پاکیزہ رہنے کی جگہوں کا جو ہمیشگی کے باغوں میں ہوں گی اور اللہ کی طرف سے تھوڑی سی خوشنودی سب سے بڑی ہے، یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔
En
خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے
ان ایمان دار مردوں اور عورتوں سے اللہ نے ان جنتوں کا وعده فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں جہاں وه ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ان صاف ستھرے پاکیزه محلات کا جو ان ہمیشگی والی جنتوں میں ہیں، اور اللہ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے، یہی زبردست کامیابی ہے
En
(آیت72) ➊ {وَعَدَاللّٰهُالْمُؤْمِنِيْنَ … ”عَدْنٍ“} ہمیشہ رہنے کا مقام، ابوسعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جنت میں) ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ تمھارے لیے یہ (نعمت) ہے کہ تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہیں ہو گے اور تمھارے لیے یہ (نعمت) ہے کہ تم زندہ رہو گے کبھی نہیں مرو گے اور تمھارے لیے یہ (نعمت) ہے کہ تم جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے اور تمھارے لیے یہ (نعمت) ہے کہ تم خوش حال رہو گے کبھی تنگی میں مبتلا نہیں ہو گے، سو یہ ہے اس کا فرمان: «وَنُوْدُوْۤااَنْتِلْكُمُالْجَنَّةُاُوْرِثْتُمُوْهَابِمَاكُنْتُمْتَعْمَلُوْنَ»[الأعراف: ۴۳]”انھیں آواز دی جائے گی کہ یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے، اس وجہ سے کہ تم عمل کرتے تھے۔“[مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب فی دوام نعیم أہل الجنۃ…: ۲۸۳۷] ➋ {وَرِضْوَانٌمِّنَاللّٰهِاَكْبَرُ:} ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جنت والوں سے فرمائے گا: ”اے جنت والو! کیا تم خوش ہو گئے؟“ وہ عرض کریں گے: ”اے ہمارے پروردگار! ہم خوش کیوں نہ ہوں، تو نے ہمیں وہ کچھ عنایت فرمایا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا میں تمھیں ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر ایک اور نعمت نہ دوں؟“ وہ عرض کریں گے: ”اب اس سے بڑھ کر اور کون سی نعمت ہو سکتی ہے؟“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”میں تمھیں اپنی خوشنودی سے نوازتا ہوں، اب کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔“[بخاری، التوحید، باب کلام الرب مع أہل الجنۃ: ۷۵۱۸۔ مسلم: ۲۸۲۹] ➌ {”رِضْوَانٌ“} میں تنوینِ تقلیل اللہ تعالیٰ کی رضا کی عظمت بیان کرنے کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تھوڑی سے تھوڑی رضا بھی جنت کی نعمتوں اور جنت عدن کے پاکیزہ مکانوں سے بہت ہی بڑی ہے، یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔