تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ:} ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جنت والوں سے فرمائے گا: ”اے جنت والو! کیا تم خوش ہو گئے؟“ وہ عرض کریں گے: ”اے ہمارے پروردگار! ہم خوش کیوں نہ ہوں، تو نے ہمیں وہ کچھ عنایت فرمایا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا میں تمھیں ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر ایک اور نعمت نہ دوں؟“ وہ عرض کریں گے: ”اب اس سے بڑھ کر اور کون سی نعمت ہو سکتی ہے؟“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”میں تمھیں اپنی خوشنودی سے نوازتا ہوں، اب کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔“ [بخاری، التوحید، باب کلام الرب مع أہل الجنۃ: ۷۵۱۸۔ مسلم: ۲۸۲۹]
➌ {” رِضْوَانٌ “} میں تنوینِ تقلیل اللہ تعالیٰ کی رضا کی عظمت بیان کرنے کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تھوڑی سے تھوڑی رضا بھی جنت کی نعمتوں اور جنت عدن کے پاکیزہ مکانوں سے بہت ہی بڑی ہے، یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دو جنتیں تو صرف سونے کی ہیں ان کے برتن اور جو کچھ بھی وہاں ہے سب سونے ہی سونے کا ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں برتن بھی اور کل چیزیں بھی ان میں اور دیدارالٰہی میں کوئی حجاب بجز اس کبریائی کی چادر کے نہیں جو اللہ جل وعلا کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3878]
اور حدیث میں ہے کہ مومن کے لیے جنت میں ایک خیمہ ہو گا ایک ہی موتی کا بنا ہوا اس کا طول ساٹھ میل کا ہو گا۔ مومن کی بیویاں وہیں ہوں گی جن کے پاس یہ آتاجاتا رہے گا لیکن ایک دوسرے کو دکھائی نہ دیں گی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4879]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، نماز قائم رکھے، رمضان کے روزے رکھے، اللہ پر حق ہے کہ اسے جنت میں لے جائے اس نے ہجرت کی ہو یا اپنے وطن میں ہی رہا ہو۔ لوگوں نے کہا: ”پھر ہم اوروں سے بھی یہ حدیث بیان کر دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ کے مجاہدوں کے لیے بنائے ہیں ہر دو درجوں میں اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں، پس جب بھی تم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو توجنت الفردوس طلب کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے بہتر جنت ہے جنتوں کی سب نہریں وہیں سے نکلتی ہیں اس کی چھت رحمن کا عرش ہے، ۱؎ [صحیح بخاری:2790]
فرماتے ہیں اہل جنت جنتی بالاخانوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے چمکتے دمکتے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6555]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جب تم مجھ پر درود پڑھو تو اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ طلب کیا کرو۔ پوچھا گیا وسیلہ کیا ہے؟ فرمایا: ”جنت کا وہ اعلیٰ درجہ جو ایک ہی شخص کو ملے گا اور مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے قوی امید ہے وہ شخص میں ہی ہوں۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مؤذن کی اذان کا جواب دو جیسے کلمات وہ کہتا ہے تم بھی کہو پھر مجھ پر درود پڑھو جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے پھر میرے لیے وسیلہ طلب کرو اور جنت کی ایک منزل ہے جو تمام مخلوق الہیہ میں سے ایک ہی شخص کو ملے گی مجھے امید ہے کہ وہ مجھے ہی عنایت ہو گی ۱؎ [مسند احمد:7588:صحیح] جو شخص میرے لیے اللہ سے اس وسیلے کی طلب کرے اس کیلئے میری شفاعت بروز قیامت حلال ہو گئی۔ ۱؎ [صحیح مسلم:384]
فرماتے ہیں میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو دنیا میں یہ جو بھی میرے لیے وسیلے کی دعا کرے گا میں قیامت کے دن اس کا گواہ اور سفارشی بنوں گا۔ ۱؎ [طبرانی:1/333:صحیح]
صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں جنت کی باتیں سنائیے ان کی بنا کس چیز کی ہے“؟ فرمایا: ”سونے چاندی کی اینٹوں کی، اس کا گارا خالص مشک ہے اس کے کنکر لوءلوء اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے اس میں جو جائے گا وہ نعمتوں میں ہو گا جو کبھی خالی نہ ہوں وہ ہمیشہ کی زندگی پائے گا جس کے بعد موت کا کھٹکا بھی نہیں نہ اس کے کپڑے خراب ہوں نہ اس کی جوانی ڈھلے۔“ ۱؎ [مسند احمد:304/2:صحیح]
فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جنکا اندر کا حصہ باہر سے نظر آتا ہے اور باہر کا حصہ اندر سے۔ ایک اعرابی نے پوچھا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بالاخانے کن کے لیے ہیں“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اچھا کلام کرے، کھانا کھلائے، روزے رکھے، اور راتوں کو لوگوں کے سونے کے وقت تہجد کی نماز ادا کرے۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:1984،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ سن کر لوگ بول اٹھے کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سب اس جنت کے مشتاق اور اس کے حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان شاءاللہ کہو۔“ پس لوگوں نے ان شاءاللہ کہا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4332،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ان تمام نعمتوں سے اعلیٰ اور بالا نعمت اللہ کی رضا مندی ہے۔ فرماتے ہں اللہ تعالیٰ عزوجل جنتیوں کو پکارے گا کہے گا اے اہل جنت! وہ کہیں گے «لبیک ربنا وسعدیک والخیر فی یدیک» ۔ پوچھے گا ”کہو تم خوش ہو گئے“؟ وہ جواب دیں گے کہ ”خوش کیوں نہ ہوتے تو نے تو اے پروردگار! ہمیں وہ دیا جو مخلوق میں سے کسی کو نہ ملا ہو گا۔“
اللہ تعالیٰ فرمائے گا ”لو میں تمہیں اس سے بہت ہی افضل و اعلیٰ چیز عطا فرماتا ہوں۔“ وہ کہیں گے ”اے اللہ! اس سے بہتر چیز اور کیا ہو سکتی ہے“؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ”سنو! میں نے اپنی رضا مندی تمہیں عطا فرمائی آج کے بعد میں کبھی بھی تم سے ناخوش نہ ہوں گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6549]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے اللہ عزوجل فرمائے گا کچھ اور چاہیئے تو دوں۔ وہ کہیں گے ”اے اللہ! جو تو نے ہمیں عطا فرما رکھا ہے اس سے بہتر تو کوئی اور چیز ہو ہی نہیں سکتی“، اللہ فرمائے گا ”وہ میری رضا مندی ہے جو سب سے بہتر ہے۔“ ۱؎ [مستدرک حاکم:82/1:صحیح]
امام حافظ ضیاء مقدسی نے صفت جنت میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے اس میں اس حدیث کو شرط صحیح پر بتلایا ہے۔ واللہ اعلم۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر ما أعد الله لهم من الثواب، فقال: {وعد الله المؤمنين والمؤمنات جناتٍ تجري من تحتها الأنهار}: جامعةٍ لكلِّ نعيم وفرح، خاليةٍ من كلِّ أذىً وتَرَح، تجري من تحت قصورها ودورها وأشجارها الأنهار الغزيرة المروية للبساتين الأنيقة التي لا يعلم ما فيها من الخيرات والبركات إلا الله تعالى. {خالدين فيها}: لا يبغون عنها حِوَلاً. {ومساكنَ طيبة في جنات عدن}: قد زخرفت وحسنت وأعِدَّت لعباد الله المتَّقين، قد طاب مرآها وطاب منزِلُها ومَقيلها، وجمعت من آلات المساكن العالية ما لا يتمنى فوقه المتمنُّون، حتى إن الله تعالى قد أعدَّ لهم غرفاً في غاية الصفاء والحسن، يُرى ظاهِرُها من باطنها، وباطِنُها من ظاهرها؛ فهذه المساكن الأنيقة التي حقيقٌ بأن تَسْكُنَ إليها النفوس وتنزِعَ إليها القلوب وتشتاقَ لها الأرواح؛ لأنَّها {في جنات عدنٍ}؛ أي: إقامة، لا يظعنون عنها ولا يتحوَّلون منها. {ورضوانٌ من الله}: يُحِلُّه على أهل الجنة {أكبر}: مما هم فيه من النعيم؛ فإنَّ نعيمهم لم يَطِبْ إلا برؤية ربِّهم ورضوانه عليهم، ولأنَّه الغاية التي أمَّها العابدون، والنهاية التي سعى نحوها المحبُّون؛ فرضا ربِّ الأرض والسماوات أكبرُ من نعيم الجنات. {ذلك هو الفوزُ العظيم}: حيث حَصلوا على كلِّ مطلوب، وانتفى عنهم كلُّ محذور، وحسنتْ وطابت منهم جميع الأمور، فنسأل الله أن يجعلنا معهم بجودِهِ.