ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الفجر (89) — آیت 9

وَ ثَمُوۡدَ الَّذِیۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ ۪ۙ﴿۹﴾
اور ثمود کے ساتھ ( کس طرح کیا) جنھوں نے وادی میں چٹانوں کو تراشا۔ En
اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادئِ (قریٰ) میں پتھر تراشتے تھے (اور گھر بناتے) تھے
En
اور ﺛمودیوں کے ساتھ جنہوں نے وادی میں بڑے بڑے پتھر تراشے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9){ وَ ثَمُوْدَ الَّذِيْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ: جَابُوْا جَابَ يَجُوْبُ جَوْبًا} (ن) کاٹنا۔ { الصَّخْرَ } اسم جنس ہے، چٹانیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ ثمود پہلے لوگ ہیں جنھوں نے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے۔ (شوکانی) آج کل اس وادی القریٰ کا نام العلاء ہے جو سعودی عرب میں ہے اور وہ مدائن صالح (جو ثمود کا مرکزی شہر تھا) سے تقریباً بیس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ (دیکھیے سورۂ حجر: ۸۲) (اشرف الحواشی)