(آیت 9){ وَثَمُوْدَالَّذِيْنَجَابُواالصَّخْرَبِالْوَادِ: ”جَابُوْا“”جَابَيَجُوْبُجَوْبًا“} (ن) کاٹنا۔ {”الصَّخْرَ“} اسم جنس ہے، چٹانیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ ثمود پہلے لوگ ہیں جنھوں نے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے۔ (شوکانی) آج کل اس ”وادی القریٰ“ کا نام ”العلاء“ ہے جو سعودی عرب میں ہے اور وہ مدائن صالح (جو ثمود کا مرکزی شہر تھا) سے تقریباً بیس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ (دیکھیے سورۂ حجر: ۸۲) (اشرف الحواشی)
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔