(آیت 10){ وَفِرْعَوْنَذِيالْاَوْتَادِ: ”الْاَوْتَادِ“”وَتَدٌ“} کی جمع ہے، لکڑی یا لوہے وغیرہ کی میخیں۔ {”ذِيالْاَوْتَادِ“} ”میخوں والا“ یعنی بڑے لشکروں والا، جن کے خیمے گاڑنے کے لیے بہت بڑی تعداد میں میخیں مہیا رہتی تھیں، یا سخت ظالم کہ جس پر ناراض ہوتا اس کے ہاتھ پاؤں میں میخیں ٹھکوا دیتا تھا۔