(آیت 9،8){ اِنَّهٗعَلٰىرَجْعِهٖلَقَادِرٌ(8)يَوْمَتُبْلَىالسَّرَآىِٕرُ: ”تُبْلَى“”بَلَايَبْلُوْ“} (ن) آزمائش کرنا، جانچ پڑتال کرنا، یہاں ظاہر کیا جانا مراد ہے، کیونکہ جانچ پڑتال تبھی ہوگی جب چھپے ہوئے اعمال ظاہر ہوں گے۔ {”السَّرَآىِٕرُ“”سَرِيْرَةٌ“} کی جمع ہے۔ {”سِرٌّ“} اور{”سَرِيْرَةٌ“} اس چیز کو کہتے ہیں جو چھپائی جائے۔ (قاموس) اس سے مراد وہ ارادے، نیتیں اور عقائد ہیں جن کا علم خود آدمی کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا اور وہ اعمال بھی جن کا علم کسی دوسرے کو نہیں ہو سکتا۔ {”يَوْمَتُبْلَىالسَّرَآىِٕرُ“”رَجْعِهٖ“} کا ظرف ہے،یعنی اللہ تعالیٰ انسان کو اس دن دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے جس دن چھپی ہوئی باتوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔