ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطارق (86) — آیت 8

اِنَّہٗ عَلٰی رَجۡعِہٖ لَقَادِرٌ ؕ﴿۸﴾
بے شک وہ اسے لوٹانے پر یقینا قادر ہے ۔ En
بےشک خدا اس کے اعادے (یعنی پھر پیدا کرنے) پر قادر ہے
En
بیشک وه اسے پھیر ﻻنے پر یقیناً قدرت رکھنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9،8){ اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌ (8) يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىِٕرُ: تُبْلَى بَلَا يَبْلُوْ} (ن) آزمائش کرنا، جانچ پڑتال کرنا، یہاں ظاہر کیا جانا مراد ہے، کیونکہ جانچ پڑتال تبھی ہوگی جب چھپے ہوئے اعمال ظاہر ہوں گے۔ { السَّرَآىِٕرُ سَرِيْرَةٌ } کی جمع ہے۔ {سِرٌّ} اور{ سَرِيْرَةٌ} اس چیز کو کہتے ہیں جو چھپائی جائے۔ (قاموس) اس سے مراد وہ ارادے، نیتیں اور عقائد ہیں جن کا علم خود آدمی کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا اور وہ اعمال بھی جن کا علم کسی دوسرے کو نہیں ہو سکتا۔ { يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىِٕرُ رَجْعِهٖ } کا ظرف ہے،یعنی اللہ تعالیٰ انسان کو اس دن دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے جس دن چھپی ہوئی باتوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

8۔ 1 یعنی انسان کے مرنے کے بعد، اسے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ بعض کے نزدیک اس کا مطلب ہے کہ وہ اس قطرہ آب کو دوبارہ شرمگاہ کے اندر لوٹانے کی قدرت رکھتا ہے جہاں سے وہ نکلا تھا پہلے مفہوم کو امام شوکانی اور امام ابن جریر طبری نے زیادہ صحییح قرار دیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

یقیناً اللہ اسے لوٹانے (دوبارہ پیدا کرنے) پر قادر [6] ہے۔
[6] اللہ تعالیٰ نے ایک شہادت عالم بالا سے پیش فرمائی، دوسری انسان کی تخلیق سے اور یہ دونوں اس بات پر قوی دلیل ہیں جو ہستی ایسے عظیم الشان کارنامے سرانجام دے رہی ہے وہ یقیناً انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے اور اگر انسان سوچے تو یہ کارنامے انسان کی دوبارہ زندگی سے زیادہ حیرت انگیز اور معجز نما ہیں۔ اب جو شخص ان کارناموں کو محض اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتا ہے وہ آخر یہ کیوں نہیں کہتا کہ دنیا میں انسان کے ہاتھوں بنائے ہوئے جتنے کارخانے چل رہے ہیں یہ بھی بس اتفاقی حادثات کے نتیجہ میں سامنے آگئے اور کام کرنے لگے ہیں یا دنیا میں جو شہر آباد ہیں، سڑکیں ہیں اور دریا اور نہریں رواں ہیں یہ بھی سب اتفاقات ہی کا نتیجہ ہیں۔ ایسے سر پھروں کو اپنے دماغ کا علاج کرانا چاہیے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہٹ دھرم لوگوں کا علاج صرف ڈنڈا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا: ﴿یَوْمَ تُ٘بْلَى السَّرَآىِٕرُ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿یَّوْمَ تَ٘بْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ (آل عمران:3؍106) جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔
﴿فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فالذي أوجد الإنسان من ماءٍ دافقٍ يخرج من هذا الموضع الصعب قادرٌ على رجعه في الآخرة وإعادته للبعث والنُّشور والجزاء. وقد قيل: إنَّ معناه أنَّ الله على رجع الماءِ المدفوق في الصُّلب لَقادرٌ، وهذا وإن كان المعنى صحيحاً؛ فليس هو المرادُ من الآية، ولهذا قال بعده: {يومَ تُبلى السرائر}؛ أي: تختبر سرائر الصدور ويظهر ما كان في القلوب من خيرٍ وشرٍّ على صفحات الوجوه؛ كما قال تعالى: {يوم تبيضُّ وجوهٌ وتسودُّ وجوهٌ}؛ ففي الدُّنيا تنكتم كثيرٌ من الأشياء ولا يظهر عياناً للناس، وأمَّا يوم القيامة ؛ فيظهر بِرُّ الأبرار وفجورُ الفجار، وتصير الأمور علانيةً. وقوله: {فما له من قوَّةٍ}؛ أي: من نفسه يدفع بها ، {ولا ناصرٍ}: من خارجٍ - ينتصر به، فهذا القسمُ على العاملين وقت عملهم وعند جزائهم.