ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ عبس (80) — آیت 37

لِکُلِّ امۡرِیًٔ مِّنۡہُمۡ یَوۡمَئِذٍ شَاۡنٌ یُّغۡنِیۡہِ ﴿ؕ۳۷﴾
اس دن ان میں سے ہر شخص کی ایک ایسی حالت ہوگی جو اسے ( دوسروں سے) بے پروا بنا دے گی۔ En
ہر شخص اس روز ایک فکر میں ہو گا جو اسے (مصروفیت کے لیے) بس کرے گا
En
ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر (دامنگیر) ہوگی جو اس کے لئے کافی ہوگی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 37){ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ …:} عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تُحْشَرُوْنَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً، قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلٰی بَعْضٍ؟ فَقَالَ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يُّهِمَّهُمْ ذَاكِ] [بخاري، الرقاق، باب کیف الحشر: ۶۵۲۷] تم ننگے پاؤں، ننگے جسم، بغیر ختنہ کی حالت میں اٹھائے جاؤ گے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر تو مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاملہ اس سے سخت ہوگا کہ یہ بات ان کی سوچ میں بھی آئے۔ ترمذی میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی اس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر یہ آیت پڑھی: «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ» [عبس: ۳۷] اس دن ان میں سے ہر آدمی کی ایک ایسی حالت ہوگی جو اسے دوسروں سے بے پروا بنا دے گی۔ [ترمذي، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ عبس: ۳۳۳۲، قال الشیخ الألبانی حسن صحیح]