(آیت 69){فَكُلُوْامِمَّاغَنِمْتُمْحَلٰلًاطَيِّبًا …:} اللہ تعالیٰ کے ناراضگی کے اظہار سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ فدیے کا مال لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں، اللہ تعالیٰ نے اس شبے کو دور فرمایا کہ یہ بھی مال غنیمت ہے اور اس امت کے لیے حلال اور طیب ہے، سو اسے کسی شک و شبہ کے بغیر کھاؤ۔ اس سے {”لَوْلَاكِتٰبٌمِّنَاللّٰهِ“} کی تفسیر ” اس امت کے لیے غنیمت حلال ہونے“ کے قول کو تقویت ملتی ہے۔ {”وَاتَّقُوااللّٰهَ“} البتہ یہ اصل مقصود نہیں، بلکہ اصل مقصود اللہ کا تقویٰ ہے، اسے اختیار کرو، یقینا اللہ تعالیٰ بے حد بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔