اگر تم فیصلہ چاہو تو یقینا تمھارے پاس فیصلہ آ چکا اور اگر باز آجائو تو وہ تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر تم دوبارہ کرو گے تو ہم (بھی) دوبارہ کریں گے اور تمھاری جماعت ہر گز تمھارے کچھ کام نہ آئے گی، خواہ بہت زیادہ ہو اور (جان لو) کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔
En
(کافرو) اگر تم (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر تمہیں عذاب کریں گے اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے
اگر تم لوگ فیصلہ چاہتے ہو تو وه فیصلہ تمہارے سامنے آموجود ہوا اور اگر باز آجاؤ تو یہ تمہارے لیے نہایت خوب ہے اور اگر تم پھر وہی کام کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کام کریں گے اور تمہاری جمعیت تمہارے ذرا بھی کام نہ آئے گی گو کتنی زیاده ہو اور واقعی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے
En
(آیت 19) ➊ {اِنْتَسْتَفْتِحُوْافَقَدْجَآءَكُمُالْفَتْحُ …:} فتح کا معنی یہاں فیصلہ ہے، جیسا کہ کفار کہتے تھے: «{ مَتٰىهٰذَاالْفَتْحُاِنْكُنْتُمْصٰدِقِيْنَ }»[السجدۃ: ۲۸]”یہ فیصلہ کب ہو گا، اگر تم سچے ہو؟“ عبد اللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ”جب (بدر کے دن) لوگ ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو ابوجہل نے کہا، اے اللہ! ہم میں سے جو شخص زیادہ رشتوں کو توڑنے والا اور ہمارے سامنے غیر معروف بات پیش کرنے والا ہے اسے آج صبح ہلاک کر دے، تو یہ فیصلہ طلب کرنے والا ابوجہل تھا۔“[مستدرک حاکم 328/2، ح: ۳۲۶۴۔ أحمد: 431/5، ح: ۲۳۶۶۱، و صححہ شعیب أرنؤوط۔ السنن الکبریٰ للنسائی: 350/6، ح: ۱۱۲۰۱]”اگر تم فیصلہ چاہو“ یہ خطاب کفار سے ہے، کیونکہ انھوں نے مکہ سے روانہ ہوتے وقت اور ابوجہل نے معرکۂ بدر سے پہلے یہ دعا کی تھی: ”اے اللہ! ہم میں سے جو حق پر ہے اسے غالب اور جو باطل پر ہے اسے رسوا کر۔“ گویا یہاں {”الْفَتْحُ“} کا معنی حکم اور فیصلہ ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”مکی سورتوں میں ہر جگہ کافروں کا یہ کلام نقل فرمایا کہ ہر گھڑی کہتے ہیں: «{ مَتٰىهٰذَاالْفَتْحُ }» یعنی کب فیصلہ ہو گا، سو اب فرمایا کہ یہ فیصلہ آ پہنچا۔“ (موضح) ➋ { وَاِنْتَعُوْدُوْانَعُدْ......:} یعنی اگر پھر مسلمانوں کی مخالفت اور ان سے جنگ کرو گے تو ہم پھر تمھارے ساتھ یہی سلوک کریں گے، اگرچہ تمھاری جماعت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔ ➌ { وَاَنَّاللّٰهَمَعَالْمُؤْمِنِيْنَ: ”اَنَّ“} سے پہلے کئی الفاظ مقدر مانے جا سکتے ہیں، آسان یہ ہے کہ اس جملے کو {”وَاعْلَمُوْا“} کا مفعول مان لیا جائے، یعنی جان لو کہ یقینا اللہ مومنوں کے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ ہو کوئی اس کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔