(آیت 15){ هَلْاَتٰىكَحَدِيْثُمُوْسٰى:} ”کیا تیرے پاس موسیٰ کی بات پہنچی ہے؟“قیامت اور اس کا انکار کرنے والوں کے ذکر کے ساتھ ہی موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا ذکر فرمایا۔ اس سے ایک تو منکرین کو ڈرانا مقصود ہے کہ حق کا انکار کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے، دوسرا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا مقصود ہے کہ آپ ان کافروں کے جھٹلانے پر رنجیدہ نہ ہوں، آپ سے پہلے لوگوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تو ان کا یہ انجام ہوا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔