(آیت 31){ اِنَّلِلْمُتَّقِيْنَمَفَازًا:} جہنم اور جہنمیوں کے بعد جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے۔ یہاں متقین کا ذکر ان لوگوں کے مقابلے میں آیا ہے جنھیں کسی حساب کی توقع نہ تھی اور جنھوں نے اللہ کی آیات کو بالکل جھٹلادیا تھا، یعنی اعمال کے حساب سے ڈرنے والوں اور کفر وتکذیب سے ڈرنے والوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔{”مَفَازًا“} مصدر ہو تومعنی ہے ”کامیابی“ اور ظرف ہو تو معنی ہے ”کامیابی کا مقام۔“ {”مَفَازًا“} میں تنوین ”ایک بڑی“ کا مفہوم ادا کر رہی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔