ترجمہ و تفسیر — سورۃ النبأ (78) — آیت 31

اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ مَفَازًا ﴿ۙ۳۱﴾
یقینا پرہیزگاروں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ En
بے شک پرہیز گاروں کے لیے کامیابی ہے
En
یقیناً پرہیزگار لوگوں کے لئے کامیابی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 31){ اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًا:} جہنم اور جہنمیوں کے بعد جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے۔ یہاں متقین کا ذکر ان لوگوں کے مقابلے میں آیا ہے جنھیں کسی حساب کی توقع نہ تھی اور جنھوں نے اللہ کی آیات کو بالکل جھٹلادیا تھا، یعنی اعمال کے حساب سے ڈرنے والوں اور کفر وتکذیب سے ڈرنے والوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔{ مَفَازًا } مصدر ہو تومعنی ہے کامیابی اور ظرف ہو تو معنی ہے کامیابی کا مقام۔ { مَفَازًا } میں تنوین ایک بڑی کا مفہوم ادا کر رہی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ پرہیز گاروں کے لیے یقیناً کامیابی [20] کا ایک مقام ہے
[20] ﴿مَفَازًا﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿مَفَازًا ﴿فاز﴾ بمعنی نجات حاصل کرنا اور مصیبتوں سے نجات حاصل کر کے خیر و عافیت کے ساتھ سلامتی کی جگہ پہنچنا ہے۔ اسی لیے ﴿فاز الرجل﴾ اور ﴿فَوْزَ الرجل﴾ کے معنی مرنا اور ہلاک ہونا بھی آتا ہے اور اس میں تصور یہ ہے کہ انسان مر کر دنیا کی پریشانیوں اور مصیبتوں سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔ گویا پرہیزگاروں کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ انہیں قیامت کے دن کے مصائب و آلام اور دوزخ کے عذاب سے نجات مل جائے اور وہ ایسے محفوظ اور سلامتی والے مقام پر پہنچا دیئے جائیں جہاں جہنم کے عذاب کی لو تک بھی نہ پہنچ سکے۔ رہا اس کے بعد جنت میں داخلہ اور جنت کی نعمتوں کا حصول تو وہ اللہ کے فضل اور مہربانی سے زائد انعام ہو گا۔ اور اس مضمون پر پہلے متعدد مقامات پر بحث گزر چکی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭
نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔
ایک حدیث میں ہے کہ { جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی }۔ ۱؎ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف]‏‏‏‏
انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:23]‏‏‏‏ ’ اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں ‘، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «‏‏‏‏أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» ‏‏‏‏انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» ‏‏‏‏یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجرموں کا حال بیان کیا، وہاں اہل تقویٰ کے انجام کا ذکر بھی فرمایا: ﴿ اِنَّ لِلْ٘مُتَّقِیْنَ مَفَازًا یعنی جو لوگ اپنے رب کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی اطاعت کا دامن تھام لیا اور اس کی نافرمانی سے باز آ گئے، ان کے لیے کامیابی، نجات اور جہنم سے دوری ہے۔ اس کامیابی میں ان کے لیے ﴿ حَدَآىِٕقَ باغ ہیں۔ ﴿ حَدَآىِٕقَ ان باغات کو کہا جاتا ہے جن میں خوبصورت درختوں اور پھلوں کی تمام اقسام جمع ہوں۔ ﴿ وَاَعْنَابً٘ا اور انگور ہیں۔ ان باغات کے بیچوں بیچ ندیاں بہہ رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے انگور کے شرف اور ان باغات میں ان کی کثرت کی بنا پر ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ان باغات میں ان کی چاہت اور طلب کے مطابق بیویاں ہوں گی ﴿ وَّؔكَوَاعِبَ اس سے مراد ابھرے ہوئے پستانوں والی کنواری لڑکیاں ہیں، جن کے پستان ان کے شباب، ان کی قوت اور ان کی تازگی کے باعث ڈھیلے نہیں پڑے۔ ﴿ اَ٘تْرَابً٘ا ہم عمر عورتیں۔ ہم عمر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باہم محبت و الفت رکھنے والی اور باہم اچھی معاشرت والی ہوتی ہیں، وہ عمر جس میں ہوں گی، وہ تینتیس سال ہے اور یہ معتدل ترین شباب کی عمر ہے۔
﴿ وَّكَاْسًا دِهَاقًا یعنی شراب کے چھلکتے ہوئے جام ہوں گے پینے والوں کی لذت کے لیے ﴿ لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا یعنی وہ ایسا کلام نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو ﴿ وَّلَا كِذّٰبً٘ا اور نہ جھوٹ۔ یعنی گناہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِیْمًاۙ۰۰اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا (الواقعۃ:56؍25۔26) وہ جنت میں کوئی بے ہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی بات سنیں گے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو یہ ثواب جزیل عطا کیا ہے۔
﴿ جَزَآءًؔ مِّنْ رَّبِّكَ ان کے لیے بدلہ ہے تمھارے رب کی طرف سے۔ ﴿عَطَآءًؔ حِسَابً٘ایہ انعام کثیر۔ یعنی ان کے اعمال کے سبب سے جن کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا اور ان اعمال کو اپنی تکریم و اکرام تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لمَّا ذكر حال المجرمين؛ ذَكَرَ مآلَ المتَّقين، فقال: {إنَّ للمتَّقين مفازاً}؛ أي: الذين اتَّقوا سَخَطَ ربِّهم بالتَّمسُّك بطاعته والانكفاف عن معصيته ؛ فلهم مفازٌ ومنجىً وبعدٌ عن النار، وفي ذلك المفاز لهم {حدائق}: وهي البساتين الجامعة لأصناف الأشجار الزاهية بالثِّمار التي تتفجَّر بين خلالها الأنهار، وخصَّ العنب - لشرفه وكثرته في تلك الحدائق. ولهم فيها زوجاتٌ على مطالب النُّفوس {كواعبَ}: وهي النواهِدُ اللاَّتي لم تتكسَّر ثديُهُنَّ من شبابهنَّ وقوَّتهن ونضارتهنَّ. والأتراب اللاَّتي على سنٍّ واحدٍ متقاربٍ، ومن عادة الأتراب أن يكنَّ متآلفاتٍ متعاشراتٍ، وذلك السنُّ الذي هنَّ فيه ثلاثٌ وثلاثونَ سنةً أعدل ما يكون من الشباب ، {وكأساً دِهاقاً}؛ أي: مملوءة من رحيقٍ لَذَّةٍ للشاربين، {لا يسمعون فيها لغواً}؛ أي: كلاماً لا فائدة فيه، {ولا كِذَّاباً}؛ أي: إثماً؛ كما قال تعالى: {لا يسمعون فيها لغواً ولا تأثيماً. إلاَّ قِيلاً سلاماً سلاماً}، وإنَّما أعطاهم الله هذا الثَّواب الجزيل من فضله وإحسانه. {عطاءً حساباً}؛ أي: بسبب أعمالهم التي وفَّقهم الله لها، وجعلها سبباً للوصول إلى كرامته.