تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک حدیث میں ہے کہ { جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی }۔ ۱؎ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف]
انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ۱؎ [52-الطور:23] ’ اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں ‘، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لمَّا ذكر حال المجرمين؛ ذَكَرَ مآلَ المتَّقين، فقال: {إنَّ للمتَّقين مفازاً}؛ أي: الذين اتَّقوا سَخَطَ ربِّهم بالتَّمسُّك بطاعته والانكفاف عن معصيته ؛ فلهم مفازٌ ومنجىً وبعدٌ عن النار، وفي ذلك المفاز لهم {حدائق}: وهي البساتين الجامعة لأصناف الأشجار الزاهية بالثِّمار التي تتفجَّر بين خلالها الأنهار، وخصَّ العنب - لشرفه وكثرته في تلك الحدائق. ولهم فيها زوجاتٌ على مطالب النُّفوس {كواعبَ}: وهي النواهِدُ اللاَّتي لم تتكسَّر ثديُهُنَّ من شبابهنَّ وقوَّتهن ونضارتهنَّ. والأتراب اللاَّتي على سنٍّ واحدٍ متقاربٍ، ومن عادة الأتراب أن يكنَّ متآلفاتٍ متعاشراتٍ، وذلك السنُّ الذي هنَّ فيه ثلاثٌ وثلاثونَ سنةً أعدل ما يكون من الشباب ، {وكأساً دِهاقاً}؛ أي: مملوءة من رحيقٍ لَذَّةٍ للشاربين، {لا يسمعون فيها لغواً}؛ أي: كلاماً لا فائدة فيه، {ولا كِذَّاباً}؛ أي: إثماً؛ كما قال تعالى: {لا يسمعون فيها لغواً ولا تأثيماً. إلاَّ قِيلاً سلاماً سلاماً}، وإنَّما أعطاهم الله هذا الثَّواب الجزيل من فضله وإحسانه. {عطاءً حساباً}؛ أي: بسبب أعمالهم التي وفَّقهم الله لها، وجعلها سبباً للوصول إلى كرامته.