ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النبأ (78) — آیت 14

وَّ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا ﴿ۙ۱۴﴾
اور ہم نے بدلیوں سے کثرت سے برسنے والا پانی اتارا۔ En
اور نچڑتے بادلوں سے موسلا دھار مینہ برسایا
En
اور بدلیوں سے ہم نے بکثرت بہتا ہوا پانی برسایا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14تا16) {وَ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا …: الْمُعْصِرٰتِ } وہ بادل جو پانی سے بھرے ہوئے ہوں۔ {ثَجٌّ} شدت اور کثرت سے بہنا یا بہانا۔ یہ لازم و متعدی دونوں معنوں میں آتا ہے۔ { ثَجَّاجًا } کثرت سے برسنے والا۔ { اَلْفَافًا } ابوعبیدہ نے فرمایا: یہ { لَفِيْفٌ } کی جمع ہے، جیسا کہ {شَرِيْفٌ} کی جمع {أَشرَافٌ} ہے۔ (المراغی) اس کا معنی ہے گھنے، ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے، جن میں کوئی فاصلہ نہیں۔