(آیت 14تا16) {وَاَنْزَلْنَامِنَالْمُعْصِرٰتِمَآءًثَجَّاجًا …: ”الْمُعْصِرٰتِ“} وہ بادل جو پانی سے بھرے ہوئے ہوں۔ {”ثَجٌّ“} شدت اور کثرت سے بہنا یا بہانا۔ یہ لازم و متعدی دونوں معنوں میں آتا ہے۔ {”ثَجَّاجًا“} کثرت سے برسنے والا۔ {”اَلْفَافًا“} ابوعبیدہ نے فرمایا: ”یہ {”لَفِيْفٌ“ } کی جمع ہے، جیسا کہ {”شَرِيْفٌ“} کی جمع {”أَشرَافٌ“} ہے۔“ (المراغی) اس کا معنی ہے گھنے، ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے، جن میں کوئی فاصلہ نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14۔ 1 مُعْصِرَات،ُ وہ بدلیاں جو پانی سے بھری ہوئی ہوں لیکن ابھی برسی نہ ہوں جیسے اَلْمَرْاَۃُالْمُعْتَصِرَۃُ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری قریب ہو ثَجَّاجًا کثرت سے بہنے والا پانی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ اور نچڑنے والے بادلوں سے لگاتار بارش برسائی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس آیت کی تفسیر آیت 6 میں تا آیت 17 میں گزر چکی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔