(آیت 26) {عٰلِمُالْغَيْبِفَلَايُظْهِرُ …:} یعنی یہ جاننا کہ کل کیا ہوگا اور قیامت کب آئے گی غیب میں شامل ہے اور غیب جاننے والا صرف اور صرف میرا رب ہے، چنانچہ دوسری جگہ فرمایا: «اِنَّاللّٰهَعِنْدَهٗعِلْمُالسَّاعَةِوَيُنَزِّلُالْغَيْثَوَيَعْلَمُمَافِيالْاَرْحَامِوَمَاتَدْرِيْنَفْسٌمَّاذَاتَكْسِبُغَدًاوَمَاتَدْرِيْنَفْسٌۢبِاَيِّاَرْضٍتَمُوْتُاِنَّاللّٰهَعَلِيْمٌخَبِيْرٌ» [لقمان: ۳۴]”بے شک اللہ ہی ہے جس کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کس زمین میں مرے گا، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔