(آیت 9،8) {ثُمَّاِنِّيْدَعَوْتُهُمْجِهَارًا …:} جب ان کے کانوں میں انگلیاں لے لینے اور منہ سر کپڑوں میں چھپا لینے تک نوبت پہنچ گئی تو پھر بھی میں نے انھیں سمجھانا نہیں چھوڑا، بلکہ پھر انھیں مزید بلند آواز سے دعوت دی۔ پھر انھیں کھلم کھلا مجمع عام میں بھی سمجھایا اور لوگوں سے چھپا کر ایک ایک کو نجی طور پر بھی سمجھایا، غرض جس طرح دن رات ہر وقت دعوت دی جا سکتی تھی، اسی طرح ہر طریقے سے دعوت دی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔