ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المعارج (70) — آیت 33

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِشَہٰدٰتِہِمۡ قَآئِمُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۳﴾
اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔ En
اور جو اپنی شہادتوں پر قائم رہتے ہیں
En
اور جو اپنی گواہیوں پر سیدھے اور قائم رہتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 33) {وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآىِٕمُوْنَ:} شہادتوں پر قائم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حق کی شہادت نہ چھپاتے ہیں، نہ ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں، نہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں اور نہ شہادت کی ادائیگی کے وقت اس میں کوئی ہیرا پھیری کرتے ہیں، کیونکہ یہ سب کام نفاق و کفر کے کام ہیں۔ شهادات میں ایمان، توحید و رسالت اور لوگوں کے باہمی معاملات غرض ہر حق بات کی شہادت شامل ہے۔