(آیت 99) {فَلَايَاْمَنُمَكْرَاللّٰهِ …:} اللہ تعالیٰ کے مکر (خفیہ تدبیر) سے مراد کسی شخص کے خلاف ایسی خفیہ تدبیر کرنا ہے کہ جب تک وہ عین اس کے سر پر نہ پہنچ جائے اسے کوئی ہوش نہ آئے اور نہ کچھ پتا ہی چلے کہ اس کی شامت آنے والی ہے، یہ خفیہ تدبیر چونکہ کافروں کے مکر و فریب کے جواب میں ہوتی ہے یا اس کی سزا دینے کے لیے کی جاتی ہے، اس لیے اسے بھی بطور مجانست ”مکر“ کہہ دیا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۵)۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔