اَفَاَمِنُوۡا مَکۡرَ اللّٰہِ ۚ فَلَا یَاۡمَنُ مَکۡرَ اللّٰہِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿٪۹۹﴾
پھر کیا وہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہوگئے ہیں، تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
En
کیا یہ لوگ خدا کے داؤ کا ڈر نہیں رکھتے (سن لو کہ) خدا کے داؤ سے وہی لوگ نڈر ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہیں
En
کیا پس وه اللہ کی اس پکڑ سے بےفکر ہوگئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بےفکر نہیں ہوتا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 99) {فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ …:} اللہ تعالیٰ کے مکر (خفیہ تدبیر) سے مراد کسی شخص کے خلاف ایسی خفیہ تدبیر کرنا ہے کہ جب تک وہ عین اس کے سر پر نہ پہنچ جائے اسے کوئی ہوش نہ آئے اور نہ کچھ پتا ہی چلے کہ اس کی شامت آنے والی ہے، یہ خفیہ تدبیر چونکہ کافروں کے مکر و فریب کے جواب میں ہوتی ہے یا اس کی سزا دینے کے لیے کی جاتی ہے، اس لیے اسے بھی بطور مجانست ”مکر“ کہہ دیا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
99۔ 1 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے پہلے یہ بیان فرمایا کہ ایمان وتقویٰ ایسی چیز ہے کہ جس بستی کے لوگ اسے اپنالیں تو ان پر اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے یعنی حسب ضرورت انہیں آسمان سے بارش مہیا فرماتا ہے اور زمین اس سے سیراب ہو کر خوب پیداوار دیتی جس سے خوش حالی و فروانی ان کا مقدر بن جاتی ہے لیکن اس کے برعکس تکذیب اور کفر کا راست اختیار کرنے پر قومیں اللہ کے عذاب کی مستحق ٹھہر جاتی ہیں، پھر پتہ نہیں ہوتا کہ شب و روز کی کس گھڑی میں عذاب آجائے اور ہنستی کھیلتی بستیوں کو آن واحد میں کھنڈرات بنا کر رکھ دیے اس لئے اللہ کی ان تدبیروں سے بےخوف نہیں ہونا چاہیئے۔ اس بےخوفی کا نتیجہ سوائے خسارے اور کچھ نیں۔ مَکْر، ُ کے مفہوم کی وضاحت کے لئے دیکھئے سورة آل عمران آیت، 54 کا حاشیہ۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
99۔ کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہو گئے ہیں حالانکہ اللہ کی چال [103] سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو نقصان اٹھانے والی ہو
[103] اوصاف ذمیمہ کی نسبت اللہ کی طرف کیسے؟ یہاں اللہ تعالیٰ کے لیے مکر کا لفظ استعمال ہوا ہے اور ایسے الفاظ مشاکلہ کی صورت میں عربی زبان میں عام مستعمل ہیں۔ مثلاً برائی کا رد عمل جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گا اسے بھی برائی کا نام دیا جائے گا۔ جیسے ﴿جَزَاۗءُ سَيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا﴾ منافقوں اور کافروں کے مکر کا رد عمل یا جو سزا انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گی اسے بھی مکر ہی کا نام دیا جائے گا ایسے مقامات پر سمجھنے کی بات صرف یہ ہے کہ ایسے الفاظ کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے مورد الزام صرف کافر، مشرک اور منافق وغیرہ ہی ہوں گے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ ﴾ ”کیا وہ بے خوف ہو گئے ہیں اللہ کے داؤ سے“ کیونکہ اللہ تعالیٰ ڈھیل دے کر فریب میں مبتلا کر رہا ہے جسے وہ نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی چال بہت سخت ہے۔ ﴿فَلَا یَ٘اْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰؔسِرُوْنَ﴾ ”پس اللہ کے داؤ سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں “ کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ سمجھتا ہے وہ اعمال کی جزا و سزا کی تصدیق کرتا ہے، نہ وہ انبیاء و مرسلین پر حقیقی ایمان رکھتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں اس بات سے بہت خوف دلایا گیا ہے کہ بندے کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ جتنا کچھ ایمان رکھتا ہے اس کے ضیاع سے بے خوف ہو جائے، وہ ہمیشہ اس بات سے ڈرتا رہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اسے ایسی آزمائش سے دوچار نہ کر دے کہ جس سے اس کا سرمایۂ ایمان سلب ہو جائے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا رہے (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عِلٰی دِیْنِکَ)(جامع الترمذي، کتاب الدعوات، باب دعاء: یا مقلب القلوب...، حدیث: 3522) ”اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ۔“اور فتنوں کے وقوع کے وقت وہ ہر اس سبب کے حصول کے لیے کوشاں رہے جو اس کو شر سے نجات دے کیونکہ بندہ.... خواہ اس کا حال کیسا ہی کیوں نہ ہو.... اس کی سلامتی یقینی نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أفأمنوا مَكْرَ الله}: حيث يستدرِجُهم من حيث لا يعلمونَ، ويُملي لهم إنَّ كيده متين. {فلا يأمنُ مكرَ اللهِ إلا القومُ الخاسرون}: فإنَّ من أمِنَ من عذاب الله؛ فإنه لم يصدِّق بالجزاء على الأعمال ولا آمن بالرسل حقيقة الإيمان.
وهذه الآية الكريمة فيها من التخويف البليغ على أنَّ العبد لا ينبغي له أن يكون آمناً على ما معه من الإيمان، بل لا يزالُ خائفاً وَجِلاً أن يُبتلى ببليَّةٍ تسلب ما معه من الإيمان، وأن لا يزال داعياً بقوله: يا مقلب القلوب! ثبِّتْ قلبي على دينك، وأن يعمل ويسعى في كلِّ سبب يخلِّصه من الشرِّ عند وقوع الفتن؛ فإنَّ العبد ولو بلغت به الحال ما بلغتْ؛ فليس على يقين من السلامة.