ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 42

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُکَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَاۤ ۫ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۴۲﴾
اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتے، یہ لوگ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ہم (عملوں کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں (کہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے
اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام کئے ہم کسی شخص کو اس کی قدرت سے زیاده کسی کا مکلف نہیں بناتے وہی لوگ جنت والے ہیں اور وه اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 42) {لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ:} یہ جملہ کہ ہم کسی شخص کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتے جملہ معترضہ ہے، اس جملے کو بیچ میں لانے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جنت میں جانے کے لیے اﷲ تعالیٰ نے جو کام فرض کیے ہیں وہ انسان کی وسعت اور طاقت سے زیادہ نہیں کہ انسان کے لیے ان کا کرنا مشکل ہو بلکہ سب اس کی وسعت کے مطابق ہیں کہ ان کا کرنا اس کے لیے آسان ہے، نیز وہ اتنے ہی بجا لانے فرض ہیں جتنی انسان میں طاقت ہو۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں تمھیں کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے بچ جاؤ اور جب میں تمھیں کسی کام کا حکم دوں تو اس میں سے اتنا بجا لاؤ جتنی تم میں طاقت ہو۔ [بخاری، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم : ۷۲۸۸، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ]