ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 179

وَ لَقَدۡ ذَرَاۡنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ۫ۖ لَہُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اَعۡیُنٌ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اٰذَانٌ لَّا یَسۡمَعُوۡنَ بِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ ﴿۱۷۹﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم ہی کے لیے پیدا کیے ہیں، ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں، یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں، بلکہ یہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں، یہی ہیں جو بالکل بے خبر ہیں۔
اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں
اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کئے ہیں، جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیاده گمراه ہیں۔ یہی لوگ غافل ہیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 179) ➊ {وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ: لِجَهَنَّمَ } میں لام عاقبت (برائے انجام) بھی ہو سکتا ہے، یعنی اپنے حواس سے صحیح فائدہ نہ اٹھانے کی وجہ سے وہ انجام کار جہنم میں جائیں گے، گویا انھیں جہنم ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور لام غایت کا بھی ہو سکتا ہے، یعنی کائنات کو بناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو آئندہ کی ہر بات کا علم تھا کہ فلاں جن یا انسان نے دنیا میں جا کر دوزخیوں والے کام کرنے تھے، اسی علم کے مطابق اس نے سب کچھ لکھ دیا تھا، اس کا نام قضا و قدر ہے، آگے اہل جہنم کی صفات بیان ہوئی ہیں کہ جن میں یہ صفات ہوں وہ ہدایت قبول نہیں کیا کرتے، گو اللہ کا شریعت اور انبیاء کے بھیجنے کا مقصد یہی ہے کہ انسان اللہ کی عبادت کرے، مگر اسے پہلے ہی یہ بھی علم ہے کہ کون شریعت پر چلے گا اور کون نہیں چلے گا۔ علماء نے تقدیر میں اور انسان کے مجبور ہونے میں فرق کی وضاحت فرمائی ہے۔
➋ { لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں دل، آنکھیں اور کان تو اس لیے دیے ہیں کہ وہ ان سے فائدہ اٹھا کر اپنے مالک کو پہچانیں، کائنات اور اپنی ذات میں اس کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں، حق کی بات غور سے سنیں اور اسے قبول کریں، مگر جب انھوں نے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا تو وہ انعام (چوپاؤں) کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ثابت ہوئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کی طبیعت میں جو تقاضے رکھے ہیں اور جس مقصد کے لیے وہ پیدا ہوئے ہیں وہ بخوبی پورا کر رہے ہیں، اس کے برعکس کفار اپنے مقصدِ حیات، یعنی عبادت کے بجائے اپنے ارادہ و اختیار سے اپنے خالق کی نافرمانی کر رہے ہیں۔
➌ {اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ:} یعنی اپنے مقصدِ حیات سے غافل ہیں اور مرنے کے بعد کی زندگی اور جواب دہی سے بے فکر ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننا اور ان کے احکام کو سیکھنا ہر شخص پر فرض ہے، اگر کوئی ایسا نہ کرے گا تو جہنم میں جائے گا۔ (موضح)