ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الملك (67) — آیت 23

قُلۡ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَکُمۡ وَ جَعَلَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡـِٕدَۃَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۲۳﴾
کہہ دے وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، تم کم ہی شکر کرتے ہو۔ En
کہو وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم احسان مانتے ہو
En
کہہ دیجئے کہ وہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 23) {قُلْ هُوَ الَّذِيْۤ اَنْشَاَكُمْ …:} اللہ تعالیٰ ہی نے تمھیں پیدا فرمایا اور تمھیں کان، آنکھیں اور دل عطا فرمائے۔ اب پیدا کرنے کا شکر تو یہ تھا کہ صرف اسی کی عبادت کرتے اور کان، آنکھیں اور دل عطا فرمانے کا شکر یہ تھاکہ انھیں وہیں استعمال کرتے جہاں یہ نعمتیں دینے والے کی رضا تھی اور ان کے ذریعے سے اس کی خوشنودی کا راستہ تلاش کرتے، مگر تم نے نہ کانوں سے حق بات سنی، نہ آنکھوں سے اللہ کی قدرتیں دیکھ کر عبرت پکڑی اور نہ دل سے اس کی توحید سمجھنے کی کوشش کی۔ بے شمار نعمتوں میں سے یہ تین نعمتیں اس لیے ذکر فرمائیں کہ یہ تینوں علم کے ذرائع ہیں، انھی کے ذریعے سے آدمی حق تک پہنچ سکتا ہے۔ اس آیت میں خطاب کفار سے ہے اور { قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ } (کم ہی تم شکر کرتے ہو) سے مراد یہ ہے کہ تم بالکل شکر ادا نہیں کرتے۔