ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ التحريم (66) — آیت 12

وَ مَرۡیَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِیۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَہَا فَنَفَخۡنَا فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِنَا وَ صَدَّقَتۡ بِکَلِمٰتِ رَبِّہَا وَ کُتُبِہٖ وَ کَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِیۡنَ ﴿٪۱۲﴾
اور عمران کی بیٹی مریم کی (مثال دی ہے) جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی ایک روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کی باتوں کی اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت کرنے والوں میں سے تھی۔ En
اور (دوسری) عمران کی بیٹی مریمؑ کی جنہوں نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اپنے پروردگار کے کلام اور اس کی کتابوں کو برحق سمجھتی تھیں اور فرمانبرداروں میں سے تھیں
En
اور (مثال بیان فرمائی) مریم بنت عمران کی جس نے اپنے ناموس کی حفاﻇت کی پھر ہم نے اپنی طرف سے اس میں جان پھونک دی اور (مریم) اس نے اپنے رب کی باتوں اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور عبادت گزاروں میں سے تھی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12){ وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِيْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے مثال کے طور پر فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران کا بیان فرمایا ہے کہ دونوں اعلیٰ درجے کے ایمان والی تھیں۔ قرآن مجید میں مریم بنت عمران کا نام صرف اس مقام پر نہیں بلکہ کئی جگہ آیا ہے اور یہ واحد خاتون ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نام لیا ہے۔ آیت کے اکثر الفاظ کی تشریح سورۂ انبیاء (۹۱) میں اور دوسرے الفاط کی تشریح مختلف آیات کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔