اور انھوں نے اللہ کے لیے ان چیزوں میں سے جو اس نے کھیتی اور چوپائوں میں سے پیدا کی ہیں، ایک حصہ مقرر کیا، پس انھوں نے کہا یہ اللہ کے لیے ہے، ان کے خیال کے مطابق اور یہ ہمارے شریکوں کے لیے ہے، پھر جو ان کے شرکا کے لیے ہے سو وہ اللہ کی طرف نہیں پہنچتا اور جو اللہ کے لیے ہے سو وہ ان کے شریکوں کی طرف پہنچ جاتا ہے۔ برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں۔
En
اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جا سکتا اور جو حصہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جا سکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے
اور اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مواشی پیدا کیے ہیں ان لوگوں نے ان میں سے کچھ حصہ اللہ کا مقرر کیا اور بزعم خود کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا ہے، پھر جو چیز ان کے معبودوں کی ہوتی ہے وه تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتی اور جو چیز اللہ کی ہوتی ہے وه ان کے معبودوں کی طرف پہنچ جاتی ہے کیا برا فیصلہ وه کرتے ہیں
En
(آیت 136) {وَجَعَلُوْالِلّٰهِمِمَّاذَرَاَمِنَالْحَرْثِ......:} قیامت اور جزا و سزا کے متعلق ان کے خیالات کی تردید کے بعد یہاں سے ان کی دوسری اعتقادی اور عملی حماقتوں اور جہالتوں کا بیان شروع ہو رہا ہے جو مدت سے چلی آئی تھیں۔ عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب تم عربوں کی جہالت معلوم کرنا چاہو تو سورۂ انعام کی آیت (۱۳۰) سے لے کر «قَدْخَسِرَالَّذِيْنَقَتَلُوْۤا» یعنی آیت(۱۴۰) تک پڑھ لو۔ [بخاری، المناقب، باب قصۃ زمزم و جہل العرب: ۳۵۲۴] ان میں سے پہلی جہالت یہ تھی کہ اپنی کھیتی اور چوپاؤں میں سے ایک حصہ انھوں نے اﷲ تعالیٰ کے لیے، یعنی مہمان نوازی، صلہ رحمی اور اﷲ کو خوش کرنے والے کاموں کے لیے مقرر کیا ہوا تھا اور ایک حصہ اپنے داتاؤں، مشکل کشاؤں، ان کی شکل پر بنائے ہوئے بتوں، ان کے پروہتوں اور کاہنوں کے لیے۔ اگر کسی وجہ سے بتوں اور کاہنوں کا حصہ کم پڑ جاتا تو اﷲ تعالیٰ کے حصے میں سے لے کر اس میں ڈال دیتے اور کہتے کہ اﷲ تو غنی ہے، اس کو زیادہ مال کی کیا ضرورت ہے اور اگر اﷲ تعالیٰ کا حصہ کم پڑ جاتا تو اس میں بتوں کے حصے میں سے کچھ نہ ڈالتے۔ اب بتائیے کہ اﷲ تعالیٰ کے مقابلے میں شریک بنانا کون سی کم جہالت تھی کہ اس سے بڑھ کر ان شرکاء کو خوش کرنے کے لیے کھیتی اور چوپاؤں کے حصے میں ان کو اﷲ پر ترجیح دینے کی جہالت اختیار کرتے! یہ اسی طرح ہے جیسے آج کل بعض مسلمان اﷲ کا فرض زکوٰۃ اور عشر نہیں نکالیں گے، مگر اپنے فوت شدہ داتاؤں اور غریب نوازوں کی نیاز میں کبھی ناغہ نہیں آنے دیں گے اور عقیدہ یہ رکھیں گے کہ اگر اس میں کمی ہو گئی تو جانوروں کے تھنوں میں سے دودھ کے بجائے خون آئے گا۔ نام اس کا ایصال ثواب رکھیں گے، مگر ایصال ثواب تو اﷲ کے نام پر صدقہ کرنے سے ہوتا ہے، نہ کہ بزرگوں کی قبروں پر چڑھاوے چڑھا کر اور اگر اﷲ ہی کو خوش کرنا ہو تو غیر اﷲ کی نذر و نیاز کے بجائے عشر اور زکوٰۃ نکالیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں