ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 119

وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ وَ قَدۡ فَصَّلَ لَکُمۡ مَّا حَرَّمَ عَلَیۡکُمۡ اِلَّا مَا اضۡطُرِرۡتُمۡ اِلَیۡہِ ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا لَّیُضِلُّوۡنَ بِاَہۡوَآئِہِمۡ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾
اور تمھیں کیا ہے کہ تم اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے، حالانکہ بلاشبہ اس نے تمھارے لیے وہ چیزیں کھول کر بیان کر دی ہیں جو اس نے تم پر حرام کی ہیں، مگر جس کی طرف تم مجبور کر دیے جاؤ اور بے شک بہت سے لوگ اپنی خواہشوں کے ساتھ کچھ جانے بغیر یقینا گمراہ کرتے ہیں، بے شک تیرا رب ہی حدسے بڑھنے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔ En
اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے
En
اور آخر کیا وجہ ہے کہ تم ایسے جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حاﻻنکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب جانوروں کی تفصیل بتادی ہے جن کو تم پر حرام کیا ہے، مگر وه بھی جب تم کو سخت ضرورت پڑجائے تو حلال ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ بہت سے آدمی اپنے خیاﻻت پر بلا کسی سند کے گمراه کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ حد سے نکل جانے والوں کو خوب جانتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 119) ➊ {وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ:} یعنی جب اﷲ تعالیٰ نے تمھارے لیے حرام چیزوں کو خوب کھول کر بیان کر دیا ہے، جن کی تفصیل آگے اسی سورت میں آ رہی ہے اور سورۂ بقرہ اور سورۂ مائدہ میں بھی ہے اور بعض کا ذکر احادیث میں ہے، تو ان کے علاوہ سب جانور حلال ہیں اور اﷲ کے نام پر ذبح یا شکار کیا ہوا جانور ان حرام چیزوں میں شامل نہیں ہے، تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم اسے نہ کھاؤ اور اﷲ کے نام کے بغیر یا غیر اﷲ کے نام پر ذبح یا شکار کیا ہوا جانور کھاؤ۔
➋ { اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ:} یعنی اضطرار اور مجبوری میں حرام کھانا جائز ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۳)، سورۂ مائدہ (۳) اور اسی سورت کی آیت(۱۴۵)۔
➌ { اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِيْنَ:} مراد وہ لوگ ہیں جو حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیتے ہیں۔ مقصود اس سے ڈرانا ہے۔ (رازی)