اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ اس سے پور ی طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو۔
En
اے ایمان والوں! خدا سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیئے کہ اس نے کل (یعنی فردائے قیامت) کے لئے کیا (سامان) بھیجا ہے اور (ہم پھر کہتے ہیں کہ) خدا سے ڈرتے رہو بےشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ (بھال) لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے (اعمال کا) کیا (ذخیره) بھیجا ہے۔ اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے
En
(آیت 18) ➊ {يٰۤاَيُّهَاالَّذِيْنَاٰمَنُوااتَّقُوااللّٰهَ:} غزوۂ بنو نضیر میں مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کے انعامات، یہود کی عہد شکنی کی سزا اور منافقین کی ریشہ دوانیوں اور ان کے انجام کے ذکر کے بعد تمام مسلمانوں کو نصیحت کی جا رہی ہے۔ {”يٰۤاَيُّهَاالَّذِيْنَاٰمَنُوا“} کے الفاظ کے ساتھ مخلص مسلمانوں کو بھی خطاب ہے اور منافق مسلمانوں کو بھی جو یہود سے دوستی رکھتے اور انھیں اپنی مدد کا یقین دلاتے تھے۔ دونوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور قیامت کے دن کی تیاری کی نصیحت کی گئی ہے، تاکہ مخلص مسلمان د نیا میں ملنے والی فتوحات اور نعمتوں کی خوشی میں آخرت کی تیاری کو نہ بھول جائیں اور منافقین میں سے جن کے دلوں میں ایمان کی کوئی رمق باقی ہے وہ اپنی روش پر نادم ہوں اور اللہ سے ڈر کر نفاق سے باز آجائیں اور آنے والے وقت کی فکر کرلیں۔ ➋ {وَلْتَنْظُرْنَفْسٌ: ”اتَّقُوااللّٰهَ“} پر {”وَانْظُرُوْا“} کے ساتھ عطف کے بجائے {”وَلْتَنْظُرْنَفْسٌ“} کے ساتھ عطف یہ احساس دلانے کے لیے ڈالا گیا ہے کہ یہ حکم ہرشخص کے لیے ہے۔ {”نَفْسٌ“} کو نکرہ لانے سے بھی عموم مراد ہے۔ گویا {”نَفْسٌ“} یہاں {”كُلُّنَفْسٍ“} کے معنی میں ہے، کیونکہ جس طرح نکرہ نفی کے سیاق میں آئے تو عموم مراد ہوتا ہے، اسی طرح اگر نکرہ امر، دعا اور ان جیسی چیزوں مثلاً شرط کے سیاق میں آئے تو وہاں بھی عموم مراد ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَاِنْاَحَدٌمِّنَالْمُشْرِكِيْنَاسْتَجَارَكَفَاَجِرْهُ» [التوبۃ: ۶]”اور اگر مشرکین میں سے کوئی ایک تجھ سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دے۔“ (ابن عاشور) ➌ {مَاقَدَّمَتْلِغَدٍ: ”غَدٌ“} (کل) سے مراد آخرت ہے۔ دنیا آج ہے اور آخرت کل، جو مرنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے۔ دور ہونے کے باوجود اسے {”غَدٌ“} کہنے میں یہ سبق ہے کہ اسے دور مت سمجھو، کیونکہ جو آنے والا ہے وہ قریب ہی ہے، خصوصاً جس کا علم ہی نہ ہو کہ کب آئے گا اور جو اگلے لمحے ہی آ سکتا ہو اس کے {”غَدٌ“} ہونے میں کیا شبہ ہے۔ ➍ { وَاتَّقُوااللّٰهَاِنَّاللّٰهَخَبِيْرٌۢبِمَاتَعْمَلُوْنَ:} یہاں {”اتَّقُوااللّٰهَ“ } کو دوبارہ لایا گیا ہے، اس کی تین توجیہیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں، ایک یہ کہ تکرار کا مقصد اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی تاکید ہے۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ پہلے {”اتَّقُوااللّٰهَ“} کے ساتھ اللہ سے ڈرنے کا اور آخرت کی تیاری کا حکم دیا، اس کے بعد {”اِنَّاللّٰهَخَبِيْرٌۢبِمَاتَعْمَلُوْنَ“} کے ساتھ اس کی وجہ بیان کرنا تھی، کیونکہ {”إِنَّ“} تعلیل کے لیے ہوتا ہے، لیکن چونکہ پہلے {”اتَّقُوااللّٰهَ“} کے بعد فاصلہ زیادہ ہو رہا تھا، اس لیے {”اتَّقُوااللّٰهَ“} کو دوبارہ لا کر اس کی وجہ بیان فرما دی کہ اللہ سے ڈر جاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ تمھارا کوئی کام اس سے مخفی نہیں جس پر تم اس کی گرفت سے بچ جاؤ، یا اچھا ہے تو اس کے انعام سے محروم رہو۔ تیسری توجیہ یہ ہے کہ پہلے {”اتَّقُوااللّٰهَ“} سے مراد تقویٰ یعنی اللہ سے ڈرنے کا حکم ہے جس کی بدولت آدمی نیکی کرتا ہے اور گناہ سے بچتا ہے اور دوسرے {”اتَّقُوااللّٰهَ“} سے مراد اس پر دوام ہے، یعنی ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہو، کیونکہ تم جو کچھ کرتے ہو یا کرو گے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس معنی کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ بعد میں فرمایا: «وَلَاتَكُوْنُوْاكَالَّذِيْنَنَسُوااللّٰهَ» اور ان لوگوں یعنی منافقین کی طرح نہ ہو جاؤ جو (ایمان لانے کے بعد) اللہ کو بھول گئے، بلکہ ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہو۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔