اور (ان کے لیے) جنھوں نے ان سے پہلے اس گھر میں اور ایمان میں جگہ بنا لی ہے، وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔
En
اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے
اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں جو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان ﻻ چکے ہیں اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال، اے ہمارے رب بیشک تو شفقت و مہربانی کرنے واﻻ ہے
En
(آیت 10) ➊ { وَالَّذِيْنَجَآءُوْمِنْۢبَعْدِهِمْ:} اس کا عطف مہاجرین و انصار پر ہے جن کا ذکر پچھلی دو آیات میں گزرا۔ یعنی اموال فے مہاجرین و انصار کے فقراء کے لیے ہیں اور ان فقراء کے لیے جو ان کے بعد آئے۔ یہ اموال فے کے مستحقین کی تیسری قسم ہے۔ ان میں تابعین، تبع تابعین اور قیامت تک آنے والے تمام مسلمان شامل ہیں، اگر ان میں وہ صفات موجود ہوں جن کا اس آیت میں ذکر ہے۔ ➋ {يَقُوْلُوْنَرَبَّنَااغْفِرْلَنَاوَلِاِخْوَانِنَاالَّذِيْنَسَبَقُوْنَابِالْاِيْمَانِ …:} ان میں سے پہلی صفت جو {”الَّذِيْنَسَبَقُوْنَابِالْاِيْمَانِ“} سے ظاہر ہے، یہ ہے کہ وہ مہاجرین و انصار کو مومن مانتے ہوں اور انھی چیزوں پر ایمان رکھتے ہوں جن پر ان کا ایمان تھا۔ دوسری صفت یہ ہے کہ وہ ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوں۔ تیسری صفت یہ ہے کہ وہ مہاجرین و انصار صحابہ اور ان کے پیروکاروں سے نہ صرف محبت رکھتے ہوں بلکہ دعا بھی کرتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں ان کے بارے میں کوئی کینہ یا دشمنی باقی نہ رہنے دے اور نہ ہی پیدا ہونے دے۔ مفسر ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے کیا ہی خوب صورت استنباط کیا ہے کہ رافضی جو صحابہ کو گالی دیتا ہو، اس کا مال فے میں کوئی حصہ نہیں، کیونکہ اس میں وہ اوصاف نہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان {”وَالَّذِيْنَجَآءُوْمِنْۢبَعْدِهِمْيَقُوْلُوْنَرَبَّنَااغْفِرْلَنَاوَلِاِخْوَانِنَاالَّذِيْنَسَبَقُوْنَابِالْاِيْمَانِوَلَاتَجْعَلْفِيْقُلُوْبِنَاغِلًّالِّلَّذِيْنَاٰمَنُوْارَبَّنَاۤاِنَّكَرَءُوْفٌرَّحِيْمٌ“} میں ذکر فرمائے ہیں۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا نے اس آیت کے مفہوم کے پیشِ نظر اپنے بھانجے عروہ بن زبیر سے فرمایا: [يَاابْنَأُخْتِيْ! أُمِرُوْاأَنْيَّسْتَغْفِرُوْالِأَصْحَابِالنَّبِيِّصَلَّیاللّٰهُعَلَيْهِوَسَلَّمَفَسَبُّوْهُمْ][مسلم، التفسیر، باب في تفسیر آیات متفرقۃ: ۳۰۲۲]”اے میرے بھانجے! ان لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے مغفرت کی دعا کریں، لیکن وہ انھیں گالیاں دینے لگے۔“ بعض نے فرمایا، جس کے دل میں کسی صحابی کے متعلق کینہ ہو اور وہ تمام صحابہ کے لیے رحم کی دعا نہ کرتا ہو وہ ان لوگوں میں شامل نہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر فرمایا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بالترتیب ایمان والوں کے تین مراتب بیان فرمائے ہیں، مہاجرین، انصار اور ان کے وہ پیروکار جن میں وہ اوصاف ہوں جو آیت میں مذکور ہیں، سو جو شخص ان صفات والے پیروکاروں میں سے نہ ہو وہ مومنوں کی اقسام سے خارج ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رافضی لوگوں سے، جو صحابہ کو گالی دیتے ہیں، یہود و نصاریٰ ہی اچھے رہے، کیونکہ یہود سے پوچھا گیا کہ تمھاری ملت میں سب سے بہتر لوگ کون ہیں؟ انھوں نے کہا، موسیٰ علیہ السلام کے اصحاب۔ نصاریٰ سے پوچھا گیا، تمھاری ملت میں سب سے بہتر لوگ کون ہیں؟ انھوں نے کہا، عیسیٰ علیہ السلام کے اصحاب۔ رافضیوں سے پوچھا گیا کہ تمھاری ملت میں سب سے برے لوگ کون ہیں؟ تو انھوں نے کہا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب۔ [نَعُوْذُبِاللّٰہِمِنْذٰلِکَ] ➌ { رَبَّنَاۤاِنَّكَرَءُوْفٌرَّحِيْمٌ:} اپنے سے پہلے ایمان والوں کے لیے مغفرت کی دعا اور اپنے سینوں کو ان کے کینے سے پاک رکھنے کی دعا کے آخر میں اللہ تعالیٰ کو اس کے ان دو اسمائے حسنیٰ کا واسطہ دیا، کیونکہ یہ دونوں چیزیں اس کی رافت و رحمت ہی سے حاصل ہو سکتی ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔