ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المجادلة (58) — آیت 22

لَا تَجِدُ قَوۡمًا یُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَہُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَہُمۡ اَوۡ عَشِیۡرَتَہُمۡ ؕ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡاِیۡمَانَ وَ اَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ ؕ وَ یُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿٪۲۲﴾
تو ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نہیں پائے گا کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، خواہ وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے ، یا ان کے بھائی، یا ان کا خاندان۔ یہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اس نے ایمان لکھ دیا ہے اور انھیں اپنی طرف سے ایک روح کے ساتھ قوت بخشی ہے اور انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے۔ یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں، یاد رکھو! یقینا اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔ En
جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے۔ خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے۔ (اور) سن رکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنے والا ہے
En
اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے گو وه ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے اور جن کی تائید اپنی روح سے کی ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں یہ خدائی لشکر ہے، آگاه رہو بیشک اللہ کے گروه والے ہی کامیاب لوگ ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22) ➊ { لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ …:} یعنی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دوستی دو ایسی چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں، خواہ وہ آدمی کے کتنے قریبی رشتہ دار ہوں، اس لیے منافقین جو ایمان کے دعوے کے باوجود کفار سے دوستی رکھتے ہیں ان کا ایمان کا دعویٰ غلط ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۲۸) اور سورۂ توبہ (24،23)۔
➋ { اُولٰٓىِٕكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ:} یعنی یہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھنے والوں سے دوستی نہیں رکھتے، خواہ وہ کتنے قریبی رشتہ دار ہوں، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان نقش کر دیا ہے۔ اس کا مصداق صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں، کیونکہ انھوں نے ان تمام لوگوں سے دوستی اور دلی تعلق کا رشتہ کاٹ پھینکا تھا جو اللہ اور اس کے رسو ل سے مخالفت اور دشمنی رکھتے تھے، خواہ وہ ان کے باپ تھے یا بیٹے یا بھائی یا خاندان کے لوگ۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کفر کی حمایت میں مسلمانوں سے لڑنے والے قریب ترین رشتہ داروں کو بھی قتل یا قید کرنے سے دریغ نہیں کیا، خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی تھے یا کوئی اور رشتہ دار۔ جنگِ بدر میں جب قیدیوں کے متعلق مشورہ ہوا کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا قتل کر دیا جائے تو عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا تھا کہ ان کافر قیدیوں میں سے ہر ایک کو اس کے رشتہ دار کے سپرد کیا جائے، جسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرے اور اللہ تعالیٰ کو عمر رضی اللہ عنہ ہی کا مشورہ پسند آیا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۶۷) کی تفسیر۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس اور عقیل بن ابی طالب(رضی اللہ عنھما) اسیر ہوئے تو دوسرے قیدیوں کی طرح فدیہ دے کر رہا ہوئے۔ اسی طرح آپ کے داماد ابو العاص اس شرط پر رہا ہوئے کہ آپ کی بیٹی زینب رضی اللہ عنھا کو واپس بھجوا دیں گے۔
➌ { وَ اَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ:} یعنی انھیں اپنی طرف سے ایک عظیم روحانی قوت عطا فرما کر ان کی مدد فرمائی۔
➍ { وَ يُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ …:} یہ ہے جنتوں میں داخلے، اس میں ابدی قیام اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا وہ تصدیق نامہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے حاصل ہوا۔ پھر ان لوگوں کی بدنصیبی کا کیا عالم ہو سکتا ہے جو ان سے دشمنی رکھتے اور ان کے بارے میں بدزبانی کرتے ہیں۔
➎ {اُولٰٓىِٕكَ حِزْبُ اللّٰهِ …: حِزْبُ اللّٰهِ } خبر معرفہ ہونے سے حصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے، یعنی اللہ کی جماعت اور گروہ صرف یہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کو اپنا بنا لیا اور اپنے ان عزیزوں سے بیگانہ ہو گئے جو اس سے اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے تھے۔ یاد رکھو! صرف اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔