تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اُولٰٓىِٕكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ:} یعنی یہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھنے والوں سے دوستی نہیں رکھتے، خواہ وہ کتنے قریبی رشتہ دار ہوں، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان نقش کر دیا ہے۔ اس کا مصداق صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں، کیونکہ انھوں نے ان تمام لوگوں سے دوستی اور دلی تعلق کا رشتہ کاٹ پھینکا تھا جو اللہ اور اس کے رسو ل سے مخالفت اور دشمنی رکھتے تھے، خواہ وہ ان کے باپ تھے یا بیٹے یا بھائی یا خاندان کے لوگ۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کفر کی حمایت میں مسلمانوں سے لڑنے والے قریب ترین رشتہ داروں کو بھی قتل یا قید کرنے سے دریغ نہیں کیا، خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی تھے یا کوئی اور رشتہ دار۔ جنگِ بدر میں جب قیدیوں کے متعلق مشورہ ہوا کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا قتل کر دیا جائے تو عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا تھا کہ ان کافر قیدیوں میں سے ہر ایک کو اس کے رشتہ دار کے سپرد کیا جائے، جسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرے اور اللہ تعالیٰ کو عمر رضی اللہ عنہ ہی کا مشورہ پسند آیا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۶۷) کی تفسیر۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس اور عقیل بن ابی طالب(رضی اللہ عنھما) اسیر ہوئے تو دوسرے قیدیوں کی طرح فدیہ دے کر رہا ہوئے۔ اسی طرح آپ کے داماد ابو العاص اس شرط پر رہا ہوئے کہ آپ کی بیٹی زینب رضی اللہ عنھا کو واپس بھجوا دیں گے۔
➌ { وَ اَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ:} یعنی انھیں اپنی طرف سے ایک عظیم روحانی قوت عطا فرما کر ان کی مدد فرمائی۔
➍ { وَ يُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ …:} یہ ہے جنتوں میں داخلے، اس میں ابدی قیام اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا وہ تصدیق نامہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے حاصل ہوا۔ پھر ان لوگوں کی بدنصیبی کا کیا عالم ہو سکتا ہے جو ان سے دشمنی رکھتے اور ان کے بارے میں بدزبانی کرتے ہیں۔
➎ {اُولٰٓىِٕكَ حِزْبُ اللّٰهِ …: ” حِزْبُ اللّٰهِ “} خبر معرفہ ہونے سے حصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے، یعنی اللہ کی جماعت اور گروہ صرف یہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کو اپنا بنا لیا اور اپنے ان عزیزوں سے بیگانہ ہو گئے جو اس سے اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے تھے۔ یاد رکھو! صرف اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[28] یعنی ایسے لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے روح پھونک کر ان کی قوت ایمانی کو کئی گنا زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔ نیز روح سے مراد روح القدس یا جبریلؑ بھی ہو سکتے ہیں جو صرف جنگ کے دوران ہی نازل ہو کر مسلمانوں کی قوت ایمانی کو نہیں بڑھاتے بلکہ کوئی بھی اہم معاملہ ہو تو مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تائید حاصل ہو جاتی ہے۔ کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی تو سیدنا حسان بن ثابتؓ نے اس ہجو کا جواب دیا۔ سیدنا حسانؓ کے یہ اشعار سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکوں کی ہجو کر' جبریلؑ تیرے ساتھ ہیں۔ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرجع النبی من الاحزاب۔۔]
اور مسلم کے الفاظ یہ ہیں:”یا اللہ! حسان کی روح القدس سے مدد فرما“ [مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب فضائل حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ]
[29] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد قرآن میں بعض دیگر مقامات پر بھی مذکور ہے۔ جس سے ان کی انتہائی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ ان کے ایمان میں شک کرتے ہیں یا انکار کرتے ہیں۔ انہیں اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور جگہ ہے «قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّـهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ» [9-التوبہ:24] اے نبی! آپ اعلان کر دیجئیے کہ اگر تمہارے باپ، دادا، بیٹے، پوتے، بچے، کنبہ، قبیلہ، مال دولت، تجارت حرفت، گھربار وغیرہ تمہیں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول کے، اس کی راہ میں جہاد کی نسبت زیادہ عزیز اور محبوب ہیں تو تم اللہ کے عنقریب برس پڑنے والے عذاب کا انتظار کرو، اس قسم کے فاسقوں کی رہبری بھی اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی۔ سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت سیدنا ابوعبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، جنگ بدر میں ان کے والد کفر کی حمایت میں مسلمانوں کے مقابلے پر آئے آپ نے انہیں قتل کر دیا۔
اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ایک ایک صفت الگ الگ بزرگوں میں تھی، مثلاً سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے تو اپنے والد کو قتل کیا تھا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے قتل کا ارادہ کیا تھا اور سیدنا معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے اپنے قریبی رشتہ داروں عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے کہ جو اپنے دل کو دشمنان اللہ کی محبت سے خالی کر دے اور مشرک رشتہ داروں سے بھی محبت چھوڑ دے وہ کامل الایمان شخص ہے جس کے دل میں ایمان نے جڑیں جما لی ہیں اور جن کی قسمت میں سعادت لکھی جا چکی ہے اور جن کی نگاہ میں ایمان کی زینت جچ گئی ہے اور ان کی تائید اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس کی روح سے کی ہے یعنی انہیں قوی بنا دیا ہے اور یہی بہتی ہوئی نہروں والی جنت میں جائیں گے جہاں سے کبھی نہ نکالے جائیں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی یہ اللہ سے خوش، چونکہ انہوں نے اللہ کے رشتہ کنبہ والوں کو ناراض کر دیا تھا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ان سے راضی ہو گیا اور انہیں اس قدر دیا کہ یہ بھی خوش خوش ہو گئے۔ اللہ کا لشکر یہی ہے اور کامیاب گروہ بھی یہی ہے، جو شیطانی لشکر اور ناکام گروہ کے مقابل ہے۔
ابوحازم اعرج رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ کو لکھا کہ جاہ دو قسم کی ہے ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری کرتا ہے، جو حضرات عام لوگوں کی نگاہوں میں نہیں جچتے جن کی عام شہرت نہیں ہوتی جن کی صفت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیان فرمائی ہے، کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گمنام متقی نیکوکار ہیں، اگر وہ نہ آئیں تو پوچھ گچھ نہ ہو اور آ جائیں تو آؤ بھگت نہ ہو ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، ہر سیاہ رنگ اندھیرے والے فتنے سے نکلتے ہیں، یہ ہیں وہ اولیاء جنہیں اللہ نے اپنا لشکر فرمایا ہے اور جن کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ [ابن ابی حاتم]
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں علمائے سلف کا خیال ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو بادشاہ سے خلط ملط رکھتے ہوں۔ [ابواحمدعسکری]
«الحمداللہ» سورۃ المجادلہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {لا تَجِدُ قوماً يؤمنون بالله واليوم الآخرِ يوادُّونَ من حادَّ الله ورسولَه}؛ أي: لا يجتمع هذا وهذا، فلا يكون العبدُ مؤمناً بالله واليوم الآخر حقيقةً إلاَّ كان عاملاً على مقتضى إيمانه ولوازمه من محبَّةِ مَنْ قام بالإيمان وموالاته وبُغْضِ مَنْ لم يَقُمْ به ومعاداتِهِ، ولو كان أقربَ الناس إليه، وهذا هو الإيمان على الحقيقة، الذي وجدت ثمرته والمقصود منه، وأهل هذا الوصف هم الذين {كَتَبَ} الله {في قلوبهم الإيمان}؛ أي: رسمه وثبَّته وغرسه غرساً لا يتزلزلُ ولا تؤثِّر فيه الشُّبه والشُّكوك، وهم الذين قواهم الله {بروح منه}؛ أي: بوحيه ومعونته ومدده الإلهي وإحسانه الرباني وهم الذين لهم الحياة الطيبة في هذه الدار، ولهم جناتُ النعيم في دار القرار، التي فيها كلُّ ما تشتهيه الأنفس وتلذُّ الأعين وتختارُ، ولهم أفضل النعيم وأكبره ، وهو أنَّ اللهَ يُحِلُّ عليهم رضوانَه؛ فلا يسخطُ عليهم أبداً، ويرضَوْن عن ربِّهم بما يعطيهم من أنواع الكرامات ووافر المَثوبات وجزيل الهِبات ورفيع الدَّرجات؛ بحيث لا يَرَوْنَ فوق ما أعطاهم مولاهم غايةً ولا وراءه نهايةً، وأما مَنْ يزعُمُ أنَّه يؤمن بالله واليوم الآخر، وهو مع ذلك موادٌّ لأعداء الله محبٌّ لمن نَبَذَ الإيمان وراء ظهرِهِ؛ فإنَّ هذا إيمانٌ زعميٌّ لا حقيقة له؛ فإنَّ كلَّ أمرٍ لا بدَّ له من برهانٍ يصدِّقه؛ فمجرَّدُ الدعوى لا تفيدُ شيئاً ولا يصدَّقُ صاحبها. والحمد لله.