ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 81

اَفَبِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡہِنُوۡنَ ﴿ۙ۸۱﴾
پھر کیا اس کلام سے تم بے توجہی کرنے والے ہو؟ En
کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو؟
En
پس کیا تم ایسی بات کو سرسری (اور معمولی) سمجھ رہے ہو؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 82،81){ اَفَبِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ …:} پھر کیا اس ساری تفصیل کے بعد کہ قیامت حق ہے اور اللہ تعالیٰ اکیلا معبود برحق ہے اور قسم کے ساتھ تاکید کے بعد بھی کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے، تم اس سے بے توجہی کرتے ہو اور اس پر ایمان لانے میں سستی کرتے ہو اور اتنی بڑی نعمت میں سے تم یہی حصہ حاصل کرتے ہو کہ اسے جھٹلا دیتے ہو۔