ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 46

وَ کَانُوۡا یُصِرُّوۡنَ عَلَی الۡحِنۡثِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۚ۴۶﴾
اور وہ بہت بڑے گناہ (شرک) پر اڑے رہتے تھے۔ En
اور گناہ عظیم پر اڑے ہوئے تھے
En
اور بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کرتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 46) {وَ كَانُوْا يُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيْمِ:} بہت بڑے گناہ سے مراد شرک ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ» [لقمان: ۱۳] بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔ یعنی ان کے عذاب کا باعث اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ خوش حالی کو نافرمانی کے لیے استعمال کرنا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک پر اصرار کرنا تھا۔ اس کے علاوہ وہ قیامت اور پیغمبروں کو بھی جھٹلاتے تھے، جیسا کہ آگے تفصیل آ رہی ہے۔