ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 15

عَلٰی سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾
سونے اور جواہر سے بُنے ہوئے تختوں پر (آرام کر رہے ہوں گے)۔ En
(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر
En
یہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15) {عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ: سُرُرٍ سَرِيْرٌ} کی جمع ہے،جس کا معنی تخت بھی ہے اور چارپائی بھی اور {وَضَنَ يَضِنُ وَضْنًا} (ض) بُننا، مضبوطی اور باریکی سے بننا، سونے اور جواہر کے ساتھ بننا۔ طبری نے مجاہد کے طریق سے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ذکر فرمایا ہے: {مَرْمُوْلَةٌ بِالذَّهَبِ، أَيْ مَنْسُوْجَةٌ بِالذَّهَبِ} یعنی سونے کے تاروں کے ساتھ بنے ہوئے۔