ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 15

وَ خَلَقَ الۡجَآنَّ مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ ﴿ۚ۱۵﴾
اور جنّ کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔ En
اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا
En
اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15) {وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ:} طبری نے فرمایا { مَارِجٍ مِّنْ نَّارٍ } ایک دوسرے سے ملی جلی سرخ، زرد اور سبز رنگ کی آگ۔ مراد آگ کا شعلہ اور اس کی نوک ہے۔ یہ {مَرَجَ أَمْرُ الْقَوْمِ} سے ہے، جس کا معنی ہے قوم کا معاملہ مل جل گیا۔ اسی طرح یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما کو فرمایا: [يَا عَبْدَ اللّٰهِ ابْنَ عَمْرٍو! كَيْفَ بِكَ إِذَا بَقِيْتَ فِيْ حُثَالَةٍ مِّنَ النَّاسِ وَ فِيْ أَبِيْ دَاوٗدَ: قَدْ مَرِجَتْ عُهُوْدُهُمْ وَ أَمَانَاتُهُمْ] [بخاري، الصلاۃ، باب تشبیک الأصابع…: ۴۸۰۔ أبو داوٗد: ۴۳۴۲] اے عبد اللہ بن عمرو! تمھارا کیا حال ہو گا جب تم چھان بورے جیسے لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے۔ ابوداؤد میں ہے: جن کے عہد اور امانتیں مل جل گئے ہوں گے۔ اور طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ { مَارِجٍ مِّنْ نَّارٍ } کا معنی {خَالِصُ النَّارِ} نقل فرمایا ہے۔