(آیت 48) {يَوْمَيُسْحَبُوْنَفِيالنَّارِعَلٰىوُجُوْهِهِمْ …: ”سَقَرَ“} جہنم کا علم(نام) ہے اور مؤنث سماعی ہے، اس لیے غیر منصرف ہے اور اس پر تنوین نہیں آتی۔ اشتقاق اس کا {”سَقَرَتْهُالنَّارُ“} (آگ نے اسے جھلس دیا) سے ہے، یعنی ان پر ان کی ضلالت اور دیوانگی اس دن واضح ہو گی جب انھیں ان کے چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا کہ جہنم کے چھونے کا مزہ چکھو۔ مزید دیکھیے سورۂ فرقان (۳۴)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔