(آیت 15) ➊ { وَلَقَدْتَّرَكْنٰهَاۤاٰيَةً:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۴۴) اور سورۂ عنکبوت (۱۵) کی تفسیر۔ ➋ { فَهَلْمِنْمُّدَّكِرٍ: ”مُدَّكِرٍ“”ذَكَرَيَذْكُرُ“} میں سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے، جو اصل میں {”مُذْتَكِرٌ“} ہے، تائے افتعال کو دال سے بدل دیا گیا، اسی طرح ذال کو بھی دال سے بدل کر اس میں ادغام کر دیا گیا، جیسا کہ سورۂ یوسف میں گزرا ہے: «وَقَالَالَّذِيْنَجَامِنْهُمَاوَادَّكَرَبَعْدَاُمَّةٍ» [یوسف: ۴۵]”اور ان دونوں میں سے جو رہا ہوا تھا اور اسے ایک مدت کے بعد یاد آیا، اس نے کہا۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔