ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النجم (53) — آیت 57

اَزِفَتِ الۡاٰزِفَۃُ ﴿ۚ۵۷﴾
قریب آگئی وہ قریب آنے والی۔ En
آنے والی (یعنی قیامت) قریب آ پہنچی
En
آنے والی گھڑی قریب آ گئی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 57){ اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ: الْاٰزِفَةُ } کے معنی کے لیے دیکھیے سورۂ مومن (۱۸) کی تفسیر۔ یعنی یہ رسول تمھیں جس آنے والی قیامت سے ڈراتا ہے وہ بالکل قریب آ چکی ہے، اس لیے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر سنبھل جاؤ، یہ مت سوچو کہ ابھی بہت وقت پڑا ہے، کیونکہ کسی کو خبر نہیں کہ اگلا سانس آئے گا یا نہیں اور جس کی موت آ گئی اس کی قیامت تو قائم ہو گئی، کیونکہ اس کے ساتھ ہی عمل کی مہلت ختم ہے۔