(آیت 57){ اَزِفَتِالْاٰزِفَةُ: ”الْاٰزِفَةُ“} کے معنی کے لیے دیکھیے سورۂ مومن (۱۸) کی تفسیر۔ یعنی یہ رسول تمھیں جس آنے والی قیامت سے ڈراتا ہے وہ بالکل قریب آ چکی ہے، اس لیے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر سنبھل جاؤ، یہ مت سوچو کہ ابھی بہت وقت پڑا ہے، کیونکہ کسی کو خبر نہیں کہ اگلا سانس آئے گا یا نہیں اور جس کی موت آ گئی اس کی قیامت تو قائم ہو گئی، کیونکہ اس کے ساتھ ہی عمل کی مہلت ختم ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔