مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النجم (53) — آیت 42

وَ اَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الۡمُنۡتَہٰی ﴿ۙ۴۲﴾
اور یہ کہ تیرے رب ہی کی طرف آخر پہنچنا ہے۔
اور یہ کہ تمہارے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے
اور یہ کہ آپ کے رب ہی کی طرف پہنچنا ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 42) {وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى:} یعنی ہر شخص نے آخر کار اپنے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏كُلٌّ اِلَيْنَا رٰجِعُوْنَ» [الأنبیاء: ۹۳] سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ایک مطلب اس کا یہ بھی ہے کہ تمام علوم و افکار کا سلسلہ اللہ تعالیٰ پر جا کر ختم ہو جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا (42) فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا (43) اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَا» ‏‏‏‏ [النازعات: ۴۲ تا ۴۴] وہ تجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہے؟ اس کے ذکر سے تو کس خیال میں ہے؟ تیرے رب ہی کی طرف اس (کے علم) کی انتہا ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔