ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النجم (53) — آیت 13

وَ لَقَدۡ رَاٰہُ نَزۡلَۃً اُخۡرٰی ﴿ۙ۱۳﴾
حالانکہ بلاشبہ یقینا اس نے اسے ایک اور بار اترتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ En
اور انہوں نے اس کو ایک بار بھی دیکھا ہے
En
اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13) {وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى:} لام اور {قَدْ} کے ساتھ تاکید قسم کے مفہوم کا فائدہ دیتی ہے۔ مشرکین کے انکار کی وجہ سے اتنی تاکید کے ساتھ بات کی ہے۔ یعنی تم زمین پر اس کے جبریل علیہ السلام کو دیکھنے کا انکار کرتے ہو، قسم ہے کہ اس نے تو اسے ایک اور بار آسمانوں کے اوپر بھی اس کی اصل صورت میں اترتے ہوئے دیکھا ہے۔