ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 26

فَرَاغَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِیۡنٍ ﴿ۙ۲۶﴾
پس چپکے سے اپنے گھر والوں کی طرف گیا، پس (بھناہوا) موٹا تازہ بچھڑا لے آیا۔ En
تو اپنے گھر جا کر ایک (بھنا ہوا) موٹا بچھڑا لائے
En
پھر (چﭗ چاپ جلدی جلدی) اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے (کا گوشت) ﻻئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26) ➊ {فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ: رَاغَ يَرُوْغُ رَوْغًا} (ن) کا معنی خفیہ طور پر جانا، حیلے کے ساتھ تیزی سے نکل جانا ہے۔ یہ {رَوْغَانُ الثَّعْلَبِ} سے ہے، لومڑی کا خفیہ طریقے سے آنا جانا۔ مطلب یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنے کے لیے خاموشی سے گئے، تاکہ انھیں خبر نہ ہو سکے اور وہ جاتے ہوئے دیکھ کر مہمانی لانے سے منع نہ کر دیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مہمانوں سے پوچھنا کہ کیا آپ کھانا کھائیں گے تو ایک طرف، انھیں تو مہمانی کے اہتمام کا حتیٰ الوسع پتا بھی نہیں لگنے دینا چاہیے۔
➋ { فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِيْنٍ:} سورۂ ہود میں { بِعِجْلٍ حَنِيْدٍ } (بھنا ہوا بچھڑا) آیا ہے۔ معلوم ہوا موٹا تازہ بچھڑا بھون کر لائے تھے۔ بعض مفسرین نے { سَمِيْنٍ } کا معنی گھی میں تلا ہوا کیا ہے، کیونکہ سمن کا معنی موٹاپا بھی ہے اور گھی بھی۔ اس کے مطابق { سَمِيْنٍ } کا معنی موٹا بھی ہو سکتا ہے اور گھی میں تلا ہوا بھی۔ مگر { حَنِيْدٍ } کے ساتھ { سَمِيْنٍ } کا معنی موٹا زیادہ مناسب ہے، کیونکہ { حَنِيْدٍ } گرم پتھروں یا کوئلے پر بھنے ہوئے کو کہتے ہیں۔