ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 25

اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ سَلٰمٌ ۚ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ ﴿ۚ۲۵﴾
جب وہ اس پر داخل ہوئے تو انھوں نے سلام کہا ۔ اس نے کہا سلام ہو، کچھ اجنبی لوگ ہیں۔ En
جب وہ ان کے پاس آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا (دیکھا تو) ایسے لوگ کہ نہ جان نہ پہچان
En
وه جب ان کے ہاں آئے تو سلام کیا، ابراہیم نے جواب سلام دیا (اور کہا یہ تو) اجنبی لوگ ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25) ➊ { اِذْ دَخَلُوْا عَلَيْهِ فَقَالُوْا …: سَلٰمًا } اور { سَلٰمٌ } کے فرق کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۶۹) کی تفسیر۔
➋ { قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ:} یہ بات دل میں کہی یا گھر والوں سے کہی اور ممکن ہے انسانی شکل میں آنے والے فرشتوں سے کہی ہو کہ آپ اس علاقے میں نئے تشریف لائے ہیں، پہلے کبھی آپ کو یہاں نہیں دیکھا۔