(آیت 20) {وَنُفِخَفِيالصُّوْرِ …:} موت کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب انسان کے سامنے یہ حقیقت کھل کر آ جائے گی کہ وہ جو کچھ کرتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا اور کرامًا کاتبین کے ذریعے سے محفوظ ہو رہا تھا۔ یہاں صور میں پھونکے جانے سے مراد دوسری دفعہ پھونکا جانا ہے، جب ہر آدمی قبر سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو جائے گا۔ ”وعيد“ دھمکی اور سزا کے وعدے کو کہتے ہیں، یعنی تمھیں نافرمانی پر جو وعید سنائی گئی تھی یہ اس کے پورے ہونے کا دن ہے۔ ”نفخ صور“ کے لیے دیکھیے سورۂ ابراہیم (۴۷ تا ۵۱)، طٰہٰ (۱۰۲)، حج (۱)، یٰس (۵۱) اور سورۂ زمر (۶۸)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔