ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المائده (5) — آیت 94

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَیَبۡلُوَنَّکُمُ اللّٰہُ بِشَیۡءٍ مِّنَ الصَّیۡدِ تَنَالُہٗۤ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ رِمَاحُکُمۡ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ مَنۡ یَّخَافُہٗ بِالۡغَیۡبِ ۚ فَمَنِ اعۡتَدٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۹۴﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یقینا اللہ تمھیں شکار میں سے کسی چیز کے ساتھ ضرور آزمائے گا، جس پر تمھارے ہاتھ اور نیزے پہنچتے ہوں گے، تاکہ اللہ جان لے کون اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے، پھر جو اس کے بعد حد سے بڑھے تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔ En
مومنو! کسی قدر شکار سے جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو خدا تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تا کہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے
En
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ قدرے شکار سے تمہارا امتحان کرے گا جن تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچ سکیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ معلوم کرلے کہ کون شخص اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے سو جو شخص اس کے بعد حد سے نکلے گا اس کے واسطے دردناک سزا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 94) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ …:} اس سے پہلے آیت: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ» ‏‏‏‏ [المائدۃ: ۸۷] میں حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے سے منع کیا تھا، اب اس آیت میں وہ حلال چیزیں ذکرکی ہیں جو کچھ وقت کے لیے بطور امتحان حرام فرمائی ہیں، یعنی احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا منع کر دیا، تاکہ فرماں برداروں اور نافرمانوں کی آزمائش ہو جائے کہ بن دیکھے اللہ سے کون ڈرتا ہے۔
➋ {تَنَالُهٗۤ اَيْدِيْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ:} یعنی چھوٹے جانور یا جانوروں کے بچے جنھیں تم ہاتھ سے پکڑ سکتے ہو، یا بڑے جانور جن کا تم نیزوں سے شکار کر سکتے ہو۔
➌ {فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ …:} یعنی اب جبکہ احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار منع کر دیا گیا ہے۔ (قرطبی)
➍ یہ اور اگلی آیات اس وقت نازل ہوئیں جب مسلمان حدیبیہ میں احرام باندھے ہوئے تھے اور خلاف معمول چھوٹے بڑے جنگلی جانور ان کے خیموں میں گھس آئے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان کے شکار سے منع فرما دیا۔ (ابن کثیر)