ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المائده (5) — آیت 76

قُلۡ اَتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا ؕ وَ اللّٰہُ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۷۶﴾
کہہ دے کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہو جو تمھارے لیے نہ کسی نقصان کی مالک ہے اور نہ نفع کی، اور اللہ ہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں؟ اور خدا ہی (سب کچھ) سنتا جانتا ہے
En
آپ کہہ دیجیئے کہ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے کسی نقصان کے مالک ہیں نہ کسی نفع کے، اللہ ہی خوب سننے اور پوری طرح جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 76) {قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ……:} یہ نصاریٰ کے عقیدے کی تردید پر دوسری دلیل ہے، مطلب یہ ہے کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو ان میں الوہیت (معبود ہونے) کا کوئی وصف بھی نہیں ہے، ان کا دوسروں کو نفع پہنچانا یا نقصان سے بچانا تو کجا وہ تو خود اپنے سے دشمنوں کے ظلم کو دفع کرنے کے لیے اﷲ کے حضور گڑ گڑا کر دعا کرتے رہے کہ اے اﷲ! مجھ سے مصیبت کا یہ وقت ٹال دے۔ پھر اس کے بعد اگر اس سمیع و علیم کو چھوڑ کر عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا معبود بناؤ تو اس سے بڑھ کر جہالت اور کیا ہو گی۔