اور ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ بھیجی، اس حال میں کہ اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو کتابوں میں سے اس سے پہلے ہے اور اس پر محافظ ہے۔ پس ان کے درمیان اس کے ساتھ فیصلہ کر جو اللہ نے نازل کیا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کر، اس سے ہٹ کر جو حق میں سے تیرے پاس آیا ہے۔ تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور ایک طریقہ مقرر کیا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمھیں ایک امت بنا دیتا اور لیکن تاکہ وہ تمھیں اس میں آزمائے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔ پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو، اللہ ہی کی طرف تم سب کا لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمھیں بتائے گا جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔
En
اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا ہم نے تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کیا ہے اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کر دیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے سو نیک کاموں میں جلدی کرو تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتا دے گا
اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافﻆ ہے۔ اس لئے آپ ان کے آپس کے معاملات میں اسی اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کے ساتھ حکم کیجیئے، اس حق سے ہٹ کر ان کی خواہشوں کے پیچھے نہ جائیے تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک دستور اور راه مقرر کردی ہے۔ اگر منظور مولیٰ ہوتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن اس کی چاہت ہے کہ جو تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے، تم نیکیوں کی طرف جلدی کرو، تم سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے، پھر وه تمہیں ہر وه چیز بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہتے ہو
En
(آیت 48)➊ {وَاَنْزَلْنَاۤاِلَيْكَالْكِتٰبَبِالْحَقِّ ……:} اوپر کی آیات میں تورات اور انجیل کے اوصاف بیان کیے اور اہل کتاب کو ان پر عامل نہ ہونے کی وجہ سے کافر، ظالم اور فاسق قرار دیا۔ اب اس آیت میں قرآن کی توصیف بیان کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ قرآن کے مطابق فیصلے کرو۔ {”مُهَيْمِنًا“} کے معنی محافظ، نگہبان اور شاہد کے آتے ہیں۔ قرآن پاک سابقہ کتابوں کا محافظ ہے، یعنی ہدایت کے جو علوم، معانی اور مضامین پہلی کتابوں میں تھے وہ سب کمال امانت کے ساتھ بیان کرتا ہے اور یہود کی تحریفات اور غلط تاویلات کو بیان کرتا ہے۔ یہ معنی بھی ہیں کہ تورات اور انجیل کے ہر حکم کو قرآن کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھا جائے گا، صحیح اترنے کی صورت میں قبول کر لیا جائے گا ورنہ رد کر دیا جائے گا۔ ➋ {فَاحْكُمْبَيْنَهُمْبِمَاۤاَنْزَلَاللّٰهُ ……:} اس سے پہلے آیت (۴۲) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا گیا تھا کہ آپ ان کے معاملات کے فیصلے کریں یا نہ کریں آپ کی مرضی ہے، لیکن اب اس کی جگہ یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ ان کے آپس کے معاملات میں بھی قرآن کے مطابق فیصلے فرمائیں۔ ➌ {لِكُلٍّجَعَلْنَامِنْكُمْشِرْعَةًوَّمِنْهَاجًا:} اس کے مخاطب یہود و نصاریٰ اور مسلمان ہیں، یعنی گو تمام انبیاء کا دین ایک ہے مگر اپنے اپنے وقت میں ہر امت کی شریعت (احکام فرعیہ) اور طریقے مختلف رہے ہیں، ہر بعد میں آنے والے نبی کی شریعت میں پہلی شریعت سے مختلف احکام پائے جاتے ہیں، اب نبی آخر الزماں کی شریعت ہر لحاظ سے مکمل اور قیامت تک کے لیے ہے۔ ایک حدیث میں ہے: ”انبیاء علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔“[بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اﷲ: «واذكر في الكتاب مريم……» : ۳۴۴۳] یعنی سب کا دین اور اصول تو ایک ہیں، اختلاف جو کچھ بھی ہے وہ صرف فروعی احکام کی حد تک ہے۔ اب آخری نبی کے بعد نہ کسی پہلے نبی کے احکام و مسائل پر عمل ہو گا اور نہ اس امت کے کسی امام و مجتہد کے قول، رائے اور فتویٰ پر۔ ➍ {وَلٰكِنْلِّيَبْلُوَكُمْفِيْمَاۤاٰتٰىكُمْ:} یعنی اگر اﷲ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو جبراً ایک ہی امت بنا دیتا مگر یہ اختلاف اس لیے ہے کہ اﷲ تعالیٰ تمھارا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ تم اس عقل اور ان اختیارات کو کیسے استعمال کرتے ہو جو اس نے تمھیں دیے ہیں، تاکہ اس پر جزا و سزا ہو سکے۔ ➎ {فَاسْتَبِقُواالْخَيْرٰتِ:} یعنی خواہ مخواہ کی کج بحثیوں کو چھوڑ کر ان نیکیوں کو اختیار کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھو جن کا اب تمھیں آخری شریعت میں حکم دیا جا رہا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔