اور ا س نے تمھاری خاطر جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنی طرف سے مسخر کر دیا، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔
En
اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے (حکم) سے تمہارے کام میں لگا دیا۔ جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے اس میں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں
(آیت 13) ➊ {وَسَخَّرَلَكُمْمَّافِيالسَّمٰوٰتِوَمَافِيالْاَرْضِجَمِيْعًامِّنْهُ:} پچھلی آیت اور اس آیت میں {”سَخَّرَلَكُمْ“} کا ”لام“ انتفاع کے لیے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے سمندر کو اور آسمان و زمین میں موجود ہر چیز کو تمھارے فائدے کے لیے مسخر اور اپنا تابع فرمان بنا دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے یہ سب کچھ تمھارے تابع فرمان بنا دیا ہے۔ آسمان و زمین، سورج چاند اور سمندر تو بہت دور کی بات ہے انسان کا اپنا سانس اور دل کی دھڑکن اس کے اپنے تابع فرمان نہیں، پھر اس کا تسخیرِ کائنات کا دعویٰ دیوانے کی بڑ کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔ لفظ {”جَمِيْعًامِّنْهُ“} اس بات کی تصریح کے لیے ہے کہ ان تمام چیزوں کو تمھارے فائدے کے لیے کام میں لگا دینا صرف اس کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات متعدد مقامات پر فرمائی ہے کہ اس نے زمین و آسمان کی ہر چیز کو انسان کے فائدے کے لیے مسخر کر رکھا ہے۔ دیکھیے سورۂ حج (۶۵) اور سورۂ لقمان (۲۰)۔ ➋ { اِنَّفِيْذٰلِكَلَاٰيٰتٍلِّقَوْمٍيَّتَفَكَّرُوْنَ:} یعنی جو بھی اپنے آپ کو ضد اور ہٹ دھرمی سے الگ کرکے غور و فکر سے کام لے گا، وہ یہ دیکھ کر کہ یہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا تو صرف اللہ تعالیٰ ہے، اس کا شکر کرے گا اور اس اکیلے کی عبادت کرے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔