ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 11

ہٰذَا ہُدًی ۚ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ لَہُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِیۡمٌ ﴿٪۱۱﴾
یہ سراسر ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے عذاب میں سے دردناک عذاب ہے۔ En
یہ ہدایت (کی کتاب) ہے۔ اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہوگا
En
یہ (سر تاپا) ہدایت ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کو نہ مانا ان کے لیے بہت سخت دردناک عذاب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) ➊ {هٰذَا هُدًى:} یعنی یہ قرآن سراسر ہدایت ہے۔ { هُدًى } مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے، جیسے {زَيْدٌ عَدْلٌ} کا مطلب یہ ہے کہ زید اتنا عادل ہے کہ سراپا عدل ہے۔{ هٰذَا هُدًى } کے معنی کی ایک تعبیر یہ ہے کہ یہ قرآن ہدایت میں کامل ہے۔ زمخشری نے فرمایا: { هٰذَا هُدًى } کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن ہدایت میں کامل ہے، جیسے تم کہتے ہو {زَيْدٌ رَجُلٌ} یعنی زید رجولیت میں کامل ہے۔
➋ {وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ …: رِجْزٍ } کا لفظ عذاب کی سخت ترین صورتوں پر بولا جاتا ہے۔