(آیت 11) ➊ {هٰذَاهُدًى:} یعنی یہ قرآن سراسر ہدایت ہے۔ {”هُدًى“} مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے، جیسے {”زَيْدٌعَدْلٌ“} کا مطلب یہ ہے کہ زید اتنا عادل ہے کہ سراپا عدل ہے۔{ ”هٰذَاهُدًى“} کے معنی کی ایک تعبیر یہ ہے کہ ”یہ قرآن ہدایت میں کامل ہے۔“ زمخشری نے فرمایا: {”هٰذَاهُدًى“} کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن ہدایت میں کامل ہے، جیسے تم کہتے ہو {”زَيْدٌرَجُلٌ“} یعنی ”زید رجولیت میں کامل ہے۔“ ➋ {وَالَّذِيْنَكَفَرُوْابِاٰيٰتِرَبِّهِمْ …: ”رِجْزٍ“} کا لفظ عذاب کی سخت ترین صورتوں پر بولا جاتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11، 1 یعنی قرآن! کیونکہ اس کے نزول کا مقصد ہی یہ ہے کہ لوگوں کو کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لایا جائے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ یہ قرآن تو سراسر [14] ہدایت ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیات کے منکر ہیں ان کے لئے بلا کا دردناک عذاب ہے۔
[14] جو بروقت تمہیں خبردار کر رہا ہے کہ قیامت کے دن تمہارا کوئی کارساز تمہارے کام نہ آسکے گا۔ نیز یہ قرآن تمہیں دنیا میں زندگی گزارنے کا بھی نہایت مناسب اور متوازن راستہ بتاتا ہے۔ نیز وہ راہ بھی جس سے تمہیں اخروی عذاب سے نجات حاصل ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قرآنی آیات اور ظاہری نشانیوں کو واضح کر دیا اور لوگوں کے ان کے متعلق دو قسموں پر ہونےکو عیاں کر دیا تو قرآن کے باعثِ ہدایت ہونے کے متعلق آگاہ فرمایا جوکہ ان عالی مطالب پر مشتمل ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ ھٰذَاھُدًی﴾”یہ قرآن ہدایت ہے۔“ یہ وصف پورے قرآن کے لیے عام ہے۔ قرآن نیک اعمال کی معرفت عطا کرتا ہے اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، برے اعمال کو بیان کرتا ہے اور ان سے روکتا ہے۔ قرآن اعمال کی جزا و سزا کو بیان کرتا ہے، جزائے دنیوی اور جزائے اخروی کو واضح کرتا ہے۔ پس ہدایت کے متلاشی لوگوں نے قرآن کے ذریعے سے ہدایت پائی اور یوں وہ فلاح اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ ﴿وَالَّذِیْنَكَفَرُوْابِاٰیٰتِرَبِّهِمْ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی واضح اور قطعی آیات کا انکار کیا جن کا انکار صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو سخت ظالم ہوں اور ان کی سرکشی کئی گنا ہو ﴿لَهُمْعَذَابٌمِّنْرِّؔجْزٍاَلِیْمٌ ﴾ ان کے لیے سخت قسم کا دردناک عذاب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلمَّا بيَّن آياته القرآنيَّة والعيانيَّة، وأن الناس فيها على قسمين؛ أخبر أن القرآن المشتملَ على هذه المطالب العالية؛ أنَّه هدىً، فقال: {هذا هدىً}: وهذا وصفٌ عامٌّ لجميع القرآن؛ فإنَّه يهدي إلى معرفة الله تعالى بصفاته المقدَّسة وأفعاله الحميدة، ويهدي إلى معرفة رسله وأوليائهم وأعدائهم وأوصافهم، ويهدي إلى الأعمال الصالحة، ويدعو إليها، ويبيِّن الأعمال السَّيئة وينهى عنها، ويهدي إلى بيان الجزاء على الأعمال، ويبيِّن الجزاء الدُّنيويَّ والأخرويَّ؛ فالمهتدون اهتَدَوا به فأفلحوا وسعدوا. {والذين كَفَروا بآيات ربِّهم}: الواضحة القاطعة، التي لا يكفرُ بها إلاَّ من اشتدَّ ظلمُه، وتضاعف طغيانه، {لهم عذابٌ من رجزٍ أليم}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔