ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 55

یَدۡعُوۡنَ فِیۡہَا بِکُلِّ فَاکِہَۃٍ اٰمِنِیۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾
وہ اس میں ہر پھل بے خوف ہو کر منگوا رہے ہوں گے۔ En
وہاں خاطر جمع سے ہر قسم کے میوے منگوائیں گے (اور کھائیں گے)
En
دل جمعی کے ساتھ وہاں ہر طرح کے میوؤں کی فرمائشیں کرتے ہوں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 55) {يَدْعُوْنَ فِيْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِيْنَ:} بے خوف ہو کر منگوانے کا مطلب یہ ہے کہ نہ انھیں یہ فکر ہو گا کہ وہ چیز موجود نہ ہو، نہ یہ کہ قیمت کہاں سے ادا کریں گے، نہ یہ کہ ختم ہو جائے گی، نہ یہ کہ کھانے سے بدہضمی نہ ہو جائے، پھر نہ قبض کا خوف نہ اسہال کا۔ غرض جو چاہیں گے بے فکر ہو کر جنت کے خادموں کو لانے کا حکم دیں گے۔